المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
546. أبو سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، عن فاطمة
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21287
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، قَالَ: كَتَبْتُ ذَلِكَ مِنْ فِيهَا قَالَتْ: كُنْتُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَطَلَّقَنِي ألْبَتَّةَ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى أَهْلِهِ أَطْلُبُ النَّفَقَةَ، فَقَالُوا: لَيْسَ لَكِ عَلَيْنَا نَفَقَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِمْ نَفَقَةٌ، وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ، فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ، وَلَا تُفَوِّتِينَا بِنَفْسِكِ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ أُمَّ شَرِيكٍ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِخْوَانُهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ، وَلَكِنِ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَإِنْ وَضَعْتِ شَيْئًا لَمْ يَرَ شَيْئًا»
ابوسلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ بات سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے منہ سے (سن کر) لکھی، وہ کہتی ہیں: میں بنو مخزوم کے ایک آدمی کے نکاح میں تھی، اس نے مجھے حتمی طلاق دے دی، تو میں نے اس کے گھر والوں کے پاس نفقہ طلب کرنے کے لیے پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: تمہارا ہم پر کوئی نفقہ نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ان پر کوئی نفقہ نہیں، اور تم پر عدت ہے، تم ام شریک کے ہاں منتقل ہو جاؤ، اور اپنے معاملے میں ہمیں نظرانداز نہ کرنا۔“ پھر فرمایا: ”ام شریک کے ہاں تو ابتدائی مہاجرین میں سے اس کے بھائی آتے جاتے رہتے ہیں، بلکہ تم ابن ام مکتوم کے ہاں منتقل ہو جاؤ، کیونکہ اس کی بینائی جا چکی ہے، اگر تم کچھ اتارو تو وہ کچھ نہیں دیکھے گا۔“ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21287]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 370، حدیث 919»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21287 in Urdu