المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
563. أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ
ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 21386
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، قَالَتْ: ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ، فَسَلَّمْتُ وَذَلِكَ فِي الضُّحَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هَذَا؟» قُلْتُ: أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ، فَقَالَ: «مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ» ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ فُلَانُ ابْنُ هُبَيْرَةَ رَجُلًا قَدْ أَجَرْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ» ، هَكَذَا قَالَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَيْمُونَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَهَمَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ الْقَعْنَبِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَيْسَرَةَ
سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں فتحِ مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی تو انہیں غسل کرتے پایا، اور ان کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا انہیں کپڑے سے پردہ کیے ہوئے تھیں، تو میں نے سلام کیا، اور یہ چاشت کا وقت تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: ام ہانی بنت ابی طالب، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ام ہانی کو خوش آمدید۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل سے فارغ ہوئے تو ایک ہی کپڑے میں لپٹے ہوئے آٹھ رکعتیں پڑھیں، پھر فارغ ہوئے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے بھائی کا خیال ہے کہ وہ فلاں ابن ہبیرہ، ایک ایسے آدمی کو قتل کر دیں گے جسے میں نے پناہ دی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے ام ہانی نے پناہ دی۔“
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دبری نے عبدالرزاق سے، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے میمون بن میسرہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس میں ان سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ ہے جو قعنبی وغیرہ نے امام مالک سے، انہوں نے موسیٰ بن میسرہ سے روایت کیا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21386]
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دبری نے عبدالرزاق سے، انہوں نے امام مالک سے، انہوں نے میمون بن میسرہ سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس میں ان سے وہم ہوا ہے، صحیح وہ ہے جو قعنبی وغیرہ نے امام مالک سے، انہوں نے موسیٰ بن میسرہ سے روایت کیا ہے۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21386]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 418، حدیث 1018»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21386 in Urdu