🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
المعجم الكبير للطبراني میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
المعجم الكبير للطبراني میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
563. أبو مرة مولى عقيل، عن أم هانئ
ابومرہ، عقیل کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا سے روایات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21387
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى عَقِيلٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ حَدَّثَتْهُ، أَنَّهُ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَرَّ إِلَيْهَا رَجُلَانِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأَجَارَتْهُما، دَخَلَ عَلَيَّ عَلِيٌّ، فَقَالَ: لأَقْتُلَنَّهُما، فَلَمَّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ ذَلِكَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَلَمَّا رَآنِي رَحَّبَ بِي، فَقَالَ: «مَا جَاءَ بِكِ يَا أُمَّ هَانِئٍ» ، قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، كُنْتُ قَدْ أَمَّنْتُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَخْتانِي، وَأَرَادَ عَلِيٌّ قَتَلَهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ» ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى غُسْلِهِ، فَسَتَرَتْ إِلَيْهِ فَاطِمَةُ، ثُمَّ أَخَذَ ثَوْبَهُ فَالْتَحَفَ بِهِ وَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ سُبْحَةَ الضُّحَى
ابومرہ، عقیل کے غلام، رحمہ اللہ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ جب فتح کا دن ہوا تو بنو مخزوم کے دو آدمی ان کے پاس بھاگ کر آئے تو انہوں نے انہیں پناہ دے دی، وہ کہتی ہیں: علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا: میں انہیں ضرور قتل کروں گا، جب میں نے انہیں یہ کہتے سنا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، آپ اس وقت مکہ کے بالائی حصے میں تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھا تو خوش آمدید کہا اور فرمایا: ”اے ام ہانی! تمہیں کیا لایا؟“ میں نے عرض کیا: یا نبی اللہ! میں نے اپنے سسرالی رشتے داروں میں سے دو آدمیوں کو امان دی تھی، اور علی نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے بھی اسے پناہ دے دی جسے تم نے پناہ دی۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کے لیے کھڑے ہوئے، تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو پردہ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کپڑا لیا اور اسے اوڑھ لیا اور چاشت کی نفل نماز آٹھ رکعتیں پڑھیں۔ [المعجم الكبير للطبراني/مسند النساء/حدیث: 21387]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 419، حدیث 1019»

Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 21387 in Urdu