المعجم الكبير للطبراني سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. سويد بن غفلة عن الحسن بن علي
سوید بن غفلہ کی سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایات
حدیث نمبر: 2744
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ خَلِيفَةَ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أُصِيبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَبُويِعَ لِلْحَسَنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْخِلَافَةِ، دَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَتْ: لِتُهْنِكَ الْخِلَافَةُ. فَقَالَ لَهَا: أَتُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ بِقَتْلِ عَلِيٍّ، انْطَلِقِي فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا. فَتَقَنَّعَتْ بِسَاجٍ لَهَا، وَجَلَسَتْ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، وَقَالَتْ: أَمَا وَاللهِ مَا أَرَدْتُ مَا ذَهَبْتَ إِلَيْهِ. فَأَقامَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، ثُمَّ تَحَوَّلَتْ عَنْهُ، فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِبَقِيَّةٍ بَقِيَتْ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا عَلَيْهِ، وبِمُتْعَةٍ عَشَرَةِ آلَافٍ، فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ بِذَلِكَ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مَفَارِقٍ. فَلَمَّا رَجَعَ الرَّسُولُ إِلَى الْحَسَنِ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَتْ، بَكَى الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ: «إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ، أَوْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا مُبْهَمَةً؛ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ» ؛ لَراجَعْتُهَا
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عائشہ بنت خلیفہ خثعمیہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے خلافت کی بیعت کی گئی تو وہ ان کے پاس آئے، تو اس نے کہا: آپ کو خلافت مبارک ہو۔ تو انہوں نے اس سے فرمایا: کیا تم سیدنا علی کے قتل پر خوشی ظاہر کرتی ہو؟ جاؤ، تمہیں تین طلاق۔ تو اس نے اپنی چادر سے اپنا سر اور چہرہ ڈھانپ لیا اور گھر کے ایک کونے میں بیٹھ گئی اور کہا: سنیے، اللہ کی قسم! میرا وہ مطلب نہیں تھا جو آپ سمجھے۔ پھر وہ وہیں رہی یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی، پھر وہ ان کے ہاں سے چلی گئی، تو انہوں نے اس کے مہر کا باقی ماندہ حصہ جو ان کے ذمے تھا، اور دس ہزار کا متعہ (طلاق کا تحفہ) اس کے پاس بھیجا۔ جب قاصد یہ لے کر اس کے پاس پہنچا تو اس نے کہا: جدا ہونے والے محبوب کی طرف سے تھوڑا سا سامان۔ جب قاصد سیدنا حسن کے پاس واپس آیا اور انہیں اس کی بات بتائی تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ رو پڑے اور فرمایا: اگر میں نے اپنے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو، یا اپنے والد کو اپنے نانا سے بیان کرتے نہ سنا ہوتا کہ انہوں نے فرمایا: ”جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طہر کے دوران تین طلاقیں دے، یا اسے بغیر تفصیل کے تین طلاقیں دے، تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہو گی جب تک وہ کسی اور شوہر سے نکاح نہ کر لے“ - تو میں اسے رجوع کر لیتا۔ [المعجم الكبير للطبراني/باب الحاء/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 3، صفحہ 91، حدیث 2757»
Al-Mu'jam al-Kabir (Tabarani) Hadith 2744 in Urdu