سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. بَابُ: الزِّيَادَةِ عَلَى الْقَبْرِ
باب: قبر اونچی کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 2029
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قال: حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَأَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ، قال:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ أَوْ يُجَصَّصَ زَادَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى أَوْ يُكْتَبَ عَلَيْهِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ قبر پر قبہ بنایا جائے یا اس کو اونچا کیا جائے، یا اس کو پختہ بنایا جائے، سلیمان بن موسیٰ کی روایت میں ”یا اس پر لکھا جائے“ کا اضافہ ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2029]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”قبر پر کوئی عمارت بنائی جائے یا قبر پر اضافہ کیا جائے یا قبر کو پختہ بنایا جائے۔“ راوی سلیمان بن موسیٰ نے یہ الفاظ زیادہ بیان کیے ہیں: ”یا اس پر کچھ لکھا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2029]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الجنائز 32 (970)، سنن ابی داود/الجنائز 76 (3225)، سنن الترمذی/الجنائز 58 (1052)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 43 (1562، 1563)، (تحفة الأشراف: 2274، 2796)، مسند احمد 3/295، 332، 399 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ نہی مطلق ہے، اس میں میت کا نام اور اس کی تاریخ وفات تبرک کے لیے قرآن کی آیتیں، اور اسماء حسنٰی وغیرہ لکھنا سبھی داخل ہیں اور یہ سب کچھ منع ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم