🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

107. بَابُ: كَرَاهِيَةِ الْمَشْىِ بَيْنَ الْقُبُورِ فِي النِّعَالِ السِّبْتِيَّةِ
باب: بالدار چمڑے کی جوتیوں میں قبروں کے درمیان چلنے کی کراہت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2050
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَكَانَ ثِقَةً، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، أَنَّ بَشِيرَ ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ شَرًّا كَثِيرًا"، ثُمَّ مَرَّ عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ , فَقَالَ:" لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا"، فَحَانَتْ مِنْهُ الْتِفَاتَةٌ، فَرَأَى رَجُلًا يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ فِي نَعْلَيْهِ , فَقَالَ:" يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ أَلْقِهِمَا".
بشیر بن خصاصیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ لوگ بڑے شر و فساد سے (بچ) کر آگے نکل گئے، پھر آپ مشرکوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ لوگ بڑے خیر سے (محروم) ہو کر آگے نکل گئے، پھر آپ متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص اپنی دونوں جوتیوں میں قبروں کے درمیان چل رہا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سبتی جوتوں والو! انہیں اتار دو۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2050]
حضرت بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا، آپ چند مسلمانوں کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ لوگ (وفات کی وجہ سے) بہت زیادہ شر سے بچ گئے ہیں۔ پھر آپ کچھ مشرکین کی قبروں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: یہ لوگ (اپنی موت کی وجہ سے) بہت زیادہ خیر سے محروم رہے۔ اچانک آپ نے توجہ فرمائی تو ایک شخص کو قبرستان میں جوتوں سمیت چلتے دیکھا تو فرمایا: اے صاحبِ رنگے ہوئے (رنگ کر صاف کیے ہوئے) چمڑے کے جوتے پہننے والے! انہیں اتار دے۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2050]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الجنائز 78 (3230)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 46 (1568)، (تحفة الأشراف: 2021)، مسند احمد 5/83، 84، 224 (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں