سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. بَابُ: الشَّهِيدِ
باب: شہید کا بیان۔
حدیث نمبر: 2055
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ عَمْرٍو حَدَّثَهُ , عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَجُلًا , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا بَالُ الْمُؤْمِنِينَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ إِلَّا الشَّهِيدَ، قَالَ:" كَفَى بِبَارِقَةِ السُّيُوفِ عَلَى رَأْسِهِ فِتْنَة".
ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا بات ہے؟ سبھی اہل ایمان اپنی قبروں میں آزمائے جاتے ہیں، سوائے شہید کے؟ آپ نے فرمایا: ”اس کے سروں پر چمکتی تلوار کی آزمائش کافی ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2055]
حضرت راشد بن سعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ اہل ایمان کا ان کی قبروں میں امتحان لیا جاتا ہے مگر شہید کا نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے سر پر چمکتی تلواریں اس کے لیے امتحان سے کافی ہو گئیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2055]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15569) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2056
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، قَالَ:" الطَّاعُونُ، وَالْمَبْطُونُ، وَالْغَرِيقُ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ" , قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ مِرَارًا، وَرَفَعَهُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
صفوان بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں طاعون سے مرنے والا، پیٹ کے مرض میں مرنے والا، ڈوب کر مرنے والا، اور زچگی کی وجہ سے مرنے والی عورت شہید ہے۔ وہ (تیمی) کہتے ہیں: ہم سے ابوعثمان نے بارہا بیان کیا، ایک مرتبہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے مرفوع بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2056]
حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”طاعون، پیٹ کی تکلیف، غرق اور دروزہ سے آنے والی موت شہادت ہے۔“ (راویٔ حدیث سلیمان تیمی نے) کہا: ہم سے یہ حدیث ابوعثمان نے کئی بار بیان کی اور ایک بار اس کو (مرفوع) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجنائز/حدیث: 2056]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4948)، مسند احمد 3/400، 401 و 6/465، 466، سنن الدارمی/الجھاد 22 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح