🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ: اخْتِلاَفِ أَهْلِ الآفَاقِ فِي الرُّؤْيَةِ
باب: رویت ہلال میں ایک شہر والوں سے دوسرے شہر والوں کے اختلاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2113
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ , قَالَ:" فَقَدِمْتُ الشَّامَ فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، وَاسْتَهَلَّ عَلَيَّ هِلَالُ رَمَضَانَ وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْتُ الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرِ، فَسَأَلَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمْ؟ فَقُلْتُ: رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ , قَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، وَرَآهُ النَّاسُ فَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ؟ قَالَ: لَكِنْ رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُ حَتَّى نُكْمِلَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَوَ لَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَأَصْحَابِهِ؟ قَالَ: لَا هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
کریب مولیٰ ابن عباس کہتے ہیں: ام فضل رضی اللہ عنہا نے انہیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیجا، تو میں شام آیا، اور میں نے ان کی ضرورت پوری کی، اور میں شام (ہی) میں تھا کہ رمضان کا چاند نکل آیا، میں نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا، پھر میں مہینہ کے آخری (ایام) میں مدینہ آ گیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے (حال چال) پوچھا، پھر پہلی تاریخ کے چاند کا ذکر کیا، (اور مجھ سے) پوچھا: تم لوگوں نے چاند کب دیکھا؟ تو میں نے جواب دیا: ہم نے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا، انہوں نے (تاکیداً) پوچھا: تم نے (بھی) اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں (میں نے بھی دیکھا تھا) اور لوگوں نے بھی دیکھا، تو لوگوں نے (بھی) روزے رکھے، اور معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی، (تو) انہوں نے کہا: لیکن ہم لوگوں نے ہفتے (سنیچر) کی رات کو دیکھا تھا، (لہٰذا) ہم برابر روزہ رکھیں گے یہاں تک کہ ہم (گنتی کے) تیس دن پورے کر لیں، یا ہم (اپنا چاند) دیکھ لیں، تو میں نے کہا: کیا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کا چاند دیکھنا کافی نہیں ہے؟ کہا: نہیں! (کیونکہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسا ہی حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2113]
حضرت کریب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا نے (کسی کام کے لیے) علاقہ شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ (امیر المؤمنین) کے پاس بھیجا۔ میں شام گیا اور ان کا کام پورا کیا۔ میں ابھی شام ہی میں تھا کہ رمضان المبارک کا چاند طلوع ہو گیا۔ میں نے بذاتِ خود جمعے کی رات چاند دیکھا، پھر میں ماہِ رمضان المبارک کے آخر میں مدینہ منورہ واپس آیا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے چاند کا ذکر کرتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ تم نے (رمضان المبارک کا) چاند کب دیکھا تھا؟ میں نے کہا: ہم نے جمعۃ المبارک کی رات دیکھا تھا۔ وہ فرمانے لگے: کیا تو نے خود جمعے کی رات دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا، پھر لوگوں نے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے روزہ رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم نے تو ہفتے کی رات دیکھا تھا، ہم تو روزے رکھتے رہیں گے حتیٰ کہ تیس پورے ہو جائیں یا چاند دیکھ لیں۔ میں نے کہا: کیا آپ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے چاند دیکھ لینے کو کافی نہیں سمجھتے؟ انہوں نے کہا: نہیں، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح حکم دیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2113]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصیام 5 (1087)، سنن ابی داود/الصیام 9 (2332)، سنن الترمذی/الصیام 9 (693)، (تحفة الأشراف: 6357)، مسند احمد 1/306 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں