سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: قَبُولِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ الْوَاحِدِ عَلَى هِلاَلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ فِيهِ عَلَى سُفْيَانَ فِي حَدِيثِ سِمَاكٍ
باب: ماہ رمضان کے چاند (دیکھنے) پر ایک آدمی کی گواہی قبول کرنے کا بیان اور سماک (والی) حدیث میں راویوں کے سفیان پر اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2114
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: رَأَيْتُ الْهِلَالَ، فَقَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، قَالَ: نَعَمْ، فَنَادَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صُومُوا.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور) کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے، تو آپ نے کہا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں روزہ رکھنے کا اعلان کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2114]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا: ”روزہ رکھو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2114]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصیام 14 (2340، 2341) مرسلاً، سنن الترمذی/الصیام 7 (691)، سنن ابن ماجہ/الصیام 6 (1652)، (تحفة الأشراف: 6104)، سنن الدارمی/الصوم 6 (1734) (ضعیف) (عکرمہ سے سماک کی روایت میں بڑا اضطراب پایا جاتا ہے، نیز سماک کے اکثر تلامذہ اسے عن عکرمہ عن النبی صلی الله علیہ وسلم مرسلاً روایت کرتے ہیں جیسا کہ رقم 2116: میں آ رہا ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2340) ترمذي (691) ابن ماجه (1652) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
حدیث نمبر: 2115
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أَبْصَرْتُ الْهِلَالَ اللَّيْلَةَ، قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" , قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" يَا بِلَالُ , أَذِّنْ فِي النَّاسِ، فَلْيَصُومُوا غَدًا" ,
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے، آپ نے پوچھا: ”کیا تم شہادت دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: ہاں، تو آپ نے فرمایا: ”بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کہ کل سے روزے رکھیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2115]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: میں نے آج رات چاند دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! لوگوں میں اعلان کر دو کل روزہ رکھیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2115]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2341) وانظر الحديث السابق (2114) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
حدیث نمبر: 2116
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي دَاوُدَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ ,
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2116]
ابوداؤد (عمر بن سعد حفری) نے حضرت سفیان رحمہ اللہ سے، انہوں نے سماک رحمہ اللہ سے، انہوں نے حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ روایت مرسل بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2116]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2114 (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، جیسا کہ مولف نے بیان کیا)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، وانظر الحديث السابق (2114) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
حدیث نمبر: 2117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ نُعَيْمٍ مِصِّيصِيٌّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى الْمَرْوَزِيُّ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلٌ.
اس سند سے بھی عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2117]
عبداللہ نے حضرت سفیان سے، انہوں نے سماک سے، انہوں نے حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے یہ روایت مرسل بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2114 (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے یہ ضعیف ہے، جیسا کہ مولف نے بیان کیا)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، وانظر الحديث السابق (2114) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337
حدیث نمبر: 2118
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ شَبِيبٍ أَبُو عُثْمَانَ وَكَانَ شَيْخًا صَالِحًا بِطَرَسُوسَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ الْحَارِثِ الْجَدَلِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ خَطَبَ النَّاسَ فِي الْيَوْمِ الَّذِي يُشَكُّ فِيهِ , فَقَالَ: أَلَا إِنِّي جَالَسْتُ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَاءَلْتُهُمْ، وَإِنَّهُمْ حَدَّثُونِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، وَانْسُكُوا لَهَا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا ثَلَاثِينَ، فَإِنْ شَهِدَ شَاهِدَانِ، فَصُومُوا وَأَفْطِرُوا".
عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک ایسے دن میں جس میں شک تھا (کہ رمضان کی پہلی تاریخ ہے یا شعبان کی آخری) لوگوں سے خطاب کیا تو کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ہم نشینی کی، اور میں ان کے ساتھ بیٹھا تو میں نے ان سے سوالات کئے، اور انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم چاند دیکھ کر روزہ رکھو، اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اور اسی طرح حج بھی کرو، اور اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو تیس (کی گنتی) پوری کرو، (اور) اگر دو گواہ (چاند دیکھنے کی) شہادت دے دیں تو روزے رکھو، اور افطار (یعنی عید) کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2118]
حضرت حسین بن حارث جدلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن زید بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس دن لوگوں کو خطاب کیا جس دن رمضان المبارک ہونا مشکوک تھا۔ انہوں نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے پاس بیٹھتا رہا ہوں اور ان سے مسائل بھی پوچھتا رہا ہوں۔ انہوں نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کرو اور چاند دیکھ کر روزے رکھنا بند کرو۔ اور چاند دیکھ کر ہی حج اور قربانی کرو۔ اگر چاند نظر نہ آئے تو (مہینے کے) تیس دن پورے کر لو۔ اور اگر دو شخص چاند دیکھنے کی گواہی دیں تو بھی روزے رکھنا شروع یا بند کر دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15621)، مسند احمد 4/321 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، و للحديث علة قادحة عند أحمد (4/ 321) رواه يحيي بن زكريا بن أبى زائدة عن الحجاج بن أرطاة (وهو ضعيف، مدلس) عن حسين بن الحارث الجدلي به. وحديث أبى داود (2339) يغني عنه. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 337