🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

47. بَابُ: الْعِلَّةِ الَّتِي مِنْ أَجْلِهَا قِيلَ ذَلِكَ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فِي حَدِيثِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي ذَلِكَ
باب: حدیث میں محمد بن عبدالرحمٰن پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2259
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرٌ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نَاسًا مُجْتَمِعِينَ عَلَى رَجُلٍ , فَسَأَلَ فَقَالُوا: رَجُلٌ أَجْهَدَهُ الصَّوْمُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ".
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو ایک شخص کو گھیرے ہوئے دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: (کیا بات ہے؟ کیوں لوگ اکٹھا ہیں؟) تو لوگوں نے کہا: ایک شخص ہے جسے روزہ نے نڈھال کر دیا ہے، تو آپ نے فرمایا: سفر میں روزہ رکھنا نیکی و تقویٰ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2259]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ایک شخص کے اردگرد جمع دیکھا تو پوچھا (کیا بات ہے؟) لوگوں نے کہا: ایک آدمی ہے جسے روزے کی وجہ سے سخت تکلیف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سفر کے دوران میں (اس حد تک پہنچانے والا) روزہ رکھنا نیکی نہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2590)، مسند احمد 3/352 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2260
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِرَجُلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ يُرَشُّ عَلَيْهِ الْمَاءُ , قَالَ:" مَا بَالُ صَاحِبِكُمْ هَذَا؟" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَائِمٌ , قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ، وَعَلَيْكُمْ بِرُخْصَةِ اللَّهِ الَّتِي رَخَّصَ لَكُمْ فَاقْبَلُوهَا" ,
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو ایک درخت کے سایہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس پر پانی چھڑکا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہارے اس ساتھی کو کیا ہو گیا ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ کے رسول! یہ روزہ دار ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی و تقویٰ نہیں ہے کہ تم سفر میں روزہ رکھو، اللہ نے جو رخصت تمہیں دی ہے اسے قبول کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2260]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جسے ایک درخت کے سائے تلے لٹایا گیا تھا اور اس (کے منہ) پر پانی کے چھینٹے مارے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس ساتھی کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے روزہ رکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں کہ تم سفر کے دوران میں (اس طرح کے) روزے رکھو، بلکہ جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رخصت دی ہے، اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اسے قبول کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2261
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرًا نَحْوَهُ.
یحییٰ کہتے ہیں مجھے محمد بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے جس شخص نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اسی طرح بیان کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2261]
محمد بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے ایسی ہی حدیث سنائی جس نے یہ حدیث حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2261]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2259 (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں