سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. بَابُ: ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ فِيهِ
باب: اس سلسلہ میں غیلان بن جریر پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
حدیث نمبر: 2384
أَخْبَرَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا غَيْلَانُ وَهُوَ ابْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِرَجُلٍ فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! هَذَا لَا يُفْطِرُ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ".
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو ہم سب کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا، (اس کے بارے میں) لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! یہ شخص ایسا ہے جو اتنی مدت سے افطار نہیں کر رہا ہے (یعنی برابر روزے رکھ رہا ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2384]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم ایک آدمی کے پاس سے گزرے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ شخص اتنے عرصے سے روزے کا ناغہ نہیں کر رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ چھوڑا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2384]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 10665) (صحیح) (اگلی روایت سے تقویت پا کر یہ بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ’’ابو ہلال راسبی‘‘ ذرا کمزور راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2385
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ , فَقَالَ عُمَرُ:" رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا" , وَسُئِلَ عَمَّنْ صَامَ الدَّهْرَ , فَقَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ ناراض ہو گئے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم اللہ کے رب (حقیقی معبود) ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر، راضی ہیں، نیز آپ سے ہمیشہ روزہ رکھنے والے کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا، نہ ہی افطار کیا“۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2385]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: «رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا» ”ہم اللہ تعالیٰ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہیں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو بلا ناغہ روزے رکھتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ چھوڑا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2385]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصوم 36 (1162)، سنن ابی داود/الصوم53 (2426)، سنن الترمذی/الصوم 56 (767)، (سنن ابن ماجہ/الصوم 31 (1713)، 40 (1730)، 41 (1738)، (تحفة الأشراف: 12117)، مسند احمد 5/295، 296، 297، 299، 303، 308، 310، ویأتی عند المؤلف برقم: 2389 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: سكت عنه الشيخ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم