🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. بَابُ: صَوْمِ ثُلُثَىِ الدَّهْرِ وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ فِي ذَلِكَ
باب: دو دن روزہ رکھنے اور ایک دن نہ رکھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2387
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَجُلٌ يَصُومُ الدَّهْرَ , قَالَ:" وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ"، قَالُوا: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالُوا: فَنِصْفَهُ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرجبیل ایک صحابی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: ایک آدمی ہے جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ وہ کبھی کھاتا ہی نہیں ۱؎، لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی ایام رکھے تو؟ ۲؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے، لوگوں نے عرض کیا: اور آدھا رکھے تو؟ ۳؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اتنے روزوں نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دیں، یہ ہر مہینے کے تین دن کے روزے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2387]
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ایک آدمی ہمیشہ روزے رکھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش وہ کبھی کھانا نہ کھاتا (اور مر جاتا)۔ لوگوں نے عرض کیا: دو تہائی دنوں کے روزے کیسے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا: نصف دنوں کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہی ہیں۔ پھر فرمایا: میں تمہیں وہ روزے نہ بتاؤں جو سینے کا کینہ (دل کے مفاسد) دور کرنے کے لیے کافی ہیں؟ ہر ماہ میں تین دن کے روزے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2387]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15652) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی نہ دن میں نہ رات میں یہاں تک کہ بھوک سے مر جائے، اس سے مقصود اس کے اس عمل پر اپنی ناگواری کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ یہ ایک ایسا مذموم عمل ہے کہ اس کے لیے بھوک سے مر جانے کی تمنا کی جائے۔ ۲؎: یعنی دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟ ۳؎: یعنی ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے تو کیا حکم ہے؟
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2388
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْتُ أَنَّهُ لَمْ يَطْعَمِ الدَّهْرَ شَيْئًا"، قَالَ: فَثُلُثَيْهِ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالَ: فَنِصْفَهُ، قَالَ:" أَكْثَرَ"، قَالَ:" أَفَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا يُذْهِبُ وَحَرَ الصَّدْرِ"، قَالُوا: بَلَى، قَالَ:" صِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ".
عمرو بن شرحبیل کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اللہ کے رسول! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو صیام الدھر رکھے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو یہ چاہوں گا کہ کبھی کچھ کھائے ہی نہ، اس نے کہا: اس کا دو تہائی رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے، اس نے کہا: آدھے ایام رکھے تو؟ آپ نے فرمایا: زیادہ ہے، پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جو سینے کی سوزش کو ختم کر دے، لوگوں نے کہا: جی ہاں (ضرور بتائیے) آپ نے فرمایا: یہ ہر مہینے میں تین دن کا روزہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2388]
حضرت عمرو بن شرحبیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ اس آدمی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو چاہتا ہوں کہ وہ کبھی کچھ نہ کھاتا۔ اس نے کہا: دو تہائی روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت زیادہ ہیں۔ اس نے کہا: نصف دنوں کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بھی زیادہ ہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں ایسے روزوں کی خبر نہ دوں جو دل کی خرابیوں (اخلاقی کمزوریوں) کو دور کر دیتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں (ضرور بتائیے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت مرسل ہے، پچھلی روایت سے تقویت پاکر صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2389
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ؟ قَالَ:" لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ، أَوْ لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" أَوَ يُطِيقُ ذَلِكَ أَحَدٌ"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا؟ قَالَ:" ذَلِكَ صَوْمُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام"، قَالَ: فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ؟ قَالَ:" وَدِدْتُ أَنِّي أُطِيقُ ذَلِكَ"، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" ثَلَاثٌ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانُ إِلَى رَمَضَانَ هَذَا صِيَامُ الدَّهْرِ كُلِّهِ".
ابوقتادہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو صیام الدھر رکھتا ہو؟ آپ نے فرمایا: اس نے نہ روزے رکھے، اور نہ ہی افطار کیا۔ (راوی کو شک ہے «لاصيام ولا أفطر» کہا، یا «لم يصم ولم يفطر» کہا، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا اس کی کوئی طاقت رکھتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: (اچھا) اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے، انہوں نے کہا: اس شخص کا معاملہ کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے؟ آپ نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ میں اس کی طاقت رکھوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھنا، اور رمضان کے روزے رکھنا یہی صیام الدھر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2389]
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ہمیشہ بلاناغہ روزہ رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس نے نہ روزہ رکھا اور نہ چھوڑا۔ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس شخص کے بارے میں کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے، ایک دن ناغہ کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص (ہمیشہ) اس کی طاقت رکھ سکتا ہے؟ انہوں نے پھر عرض کیا: اس شخص کے بارے میں کیا فرمان ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے، ایک دن ناغہ کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو حضرت داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے جو ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، دو دن افطار کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری خواہش ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی۔ پھر فرمایا: میری خواہش ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی۔ پھر فرمایا: ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور ہر رمضان کے روزے رکھ لینا (ثواب کے لحاظ سے) زمانہ بھر کے روزے رکھ لینے کے برابر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2385 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں