🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: مَانِعِ زَكَاةِ الإِبِلِ
باب: اونٹ کی زکاۃ نہ دینے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2450
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ مِمَّا ذَكَرَ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَأْتِي الْإِبِلُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، إِذَا هِيَ لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى رَبِّهَا عَلَى خَيْرِ مَا كَانَتْ، إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيهَا حَقَّهَا، تَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، قَالَ: وَمِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ عَلَى الْمَاءِ أَلَا لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاءٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ , فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ أَلَا لَا يَأْتِيَنَّ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ، فَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ , فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ، قَالَ: وَيَكُونُ كَنْزُ أَحَدِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ، وَيَطْلُبُهُ أَنَا كَنْزُكَ فَلَا يَزَالُ حَتَّى يُلْقِمَهُ أُصْبُعَهُ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اونٹ اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا اس سے بہتر حالت میں آئیں گے جس میں وہ (دنیا میں) تھے، وہ اسے اپنے کھروں سے روندیں گے، اور بکریاں اپنے مالک کے پاس جب اس نے ان میں ان کا حق نہ دیا ہو گا، اس سے بہتر حالت میں آئیں گی جس حالت میں وہ (دنیا میں) تھیں۔ وہ اسے اپنی کھروں سے روندیں گی، اور اپنی سینگوں سے ماریں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا حق یہ بھی ہے کہ انہیں اسی جگہ دوہا جائے جہاں انہیں پانی پلانے کا نظم ہو ۱؎، سن لو، قیامت کے دن تم میں کا کوئی اپنے اونٹ کو اپنی گردن پر لادے ہوئے نہ لائے وہ بلبلا رہا ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! (بچائیے مجھ کو اس عذاب سے) کہ میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے بتا چکا تھا، سن لو! قیامت کے دن کوئی اپنی گردن پر بکری کو لادے ہوئے نہ آئے کہ وہ ممیا رہی ہو، پھر وہ کہے: اے محمد! (مجھے اس عذاب سے بچائیے) کہ اس وقت میں کہوں: میں تیرے لیے کچھ نہیں کر سکتا، میں تو تجھے پہلے ہی بتا چکا ہوں۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے کسی کا خزانہ ۲؎ قیامت کے دن گنجا سانپ بن کر سامنے آئے گا، اس کا مالک اس سے بھاگے گا، اور وہ اس کا برابر پیچھا کرتا رہے گا، اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں یہاں تک کہ وہ اس کی انگلی کو اپنے منہ میں داخل کر لے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2450]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اونٹوں کے مالک نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا (ان کی زکاۃ نہ دی ہوگی) تو وہ اونٹ (قیامت کے دن) بہترین موٹاپے کی حالت میں اس پر آئیں گے اور اسے اپنے پاؤں سے روندیں گے۔ اور اگر بکریوں کے مالک نے ان کا حق ادا نہیں کیا ہوگا (ان کی زکاۃ نہ دی ہوگی) تو وہ بکریاں (قیامت کے دن) بہترین موٹاپے کی حالت میں اس پر آئیں گی، اسے اپنے کھروں سے مسلیں گی اور اپنے سینگوں سے اسے ٹکریں ماریں گی۔ فرمایا: اور ان جانوروں میں یہ حق بھی ہے کہ جب وہ پانی پینے جائیں تو (وہاں موجود فقراء کو) ان کا دودھ دوہ کر دیا جائے۔ خبردار! ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن تم میں سے کوئی شخص اپنی گردن پر اونٹ اٹھائے ہوئے آئے اور وہ اونٹ بلبلا رہا ہو۔ وہ کہے: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (میری مدد فرمائیے) اور میں کہہ دوں کہ میں تیرے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی۔ خبردار! ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کوئی شخص قیامت کے دن اپنی گردن پر بکری اٹھا کر لائے، وہ بکری ممیا رہی ہو اور وہ کہے: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! (میری مدد فرمائیے) اور میں کہہ دوں کہ میں تیرے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان (لوگوں) کا خزانہ (جس کی زکاۃ نہ دی گئی ہو) قیامت کے دن گنجے سانپ کی صورت اختیار کرے گا۔ اس کا مالک اس سے بھاگے گا لیکن وہ اسے تلاش کرے گا اور کہے گا: میں تیرا خزانہ ہوں۔ وہ اسی طرح اس کا پیچھا کرتا رہے گا حتیٰ کہ وہ اپنی انگلیاں اس (سانپ) کے منہ میں ڈال دے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2450]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة3 (1402)، الجھاد189 (2378)، تفسیربراء ة6 (3073)، الحیل3 (6958)، (تحفة الأشراف: 13736)، مسند احمد (2/316، 379، 426) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی: بکریوں کو گھاٹوں پر دوہا جائے تاکہ وہاں موجود مساکین کو بھی اس میں سے کچھ دیا جائے، نہ کہ بند گھروں میں مساکین سے بچنے کے لیے دوہا جائے۔ ۲؎: جس کی وہ زکاۃ نہیں ادا کرتا تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں