سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ: زَكَاةِ الإِبِلِ
باب: اونٹوں کی زکاۃ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2447
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى. ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، وَشُعْبَةَ , وَمَالِكٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2447]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں، نہ پانچ سے کم اونٹوں میں زکاۃ ہے اور نہ پانچ اوقیے سے کم رقم میں زکاۃ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2447]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة4 (1404)، 32 (1447)، صحیح مسلم/الزکاة1 (979)، سنن ابی داود/الزکاة 1 (1558)، سنن الترمذی/الزکاة 7 (627)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 6 (1793)، (تحفة الأشراف: 4402)، موطا امام مالک/الزکاة1 (1)، مسند احمد 3/6، 44، 45، 59، 60، 73، 86، 74، 79، سنن الدارمی/الزکاة11 (1673، 1674)، ویأتی عند المؤلف بأرقام: 2475، 2477، 2478، 2486، 2487، 2489 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور پانچ وسق تقریباً ساڑھے سات کوئنٹل بنتا ہے۔ ۲؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیہ دو سو درہم کا ہوا، اور دو سو درہم موجودہ وزن کے اعتبار سے ۸۵ گرام بنتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2448
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ ذَوْدٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ".
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹ سے کم میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکاۃ نہیں ہے، اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2448]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ اونٹوں سے کم میں زکاۃ نہیں اور پانچ اوقیے سے کم (چاندی یا رقم) میں زکاۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم غلے میں زکاۃ نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2448]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2449
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ أَبُو كَامِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخَذْتُ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَتَبَ لَهُمْ:" إِنَّ هَذِهِ فَرَائِضُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا رَسُولَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلَا يُعْطِ، فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ، فِي كُلِّ خَمْسِ ذَوْدٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ، فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ، فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتَّةً وَأَرْبَعِينَ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ، فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ، فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ، فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ، وَعِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ بِنْتُ لَبُونٍ، وَعِنْدَهُ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمَا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ ابْنَةِ مَخَاضٍ، وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي صَدَقَةِ الْغَنَمِ فِي سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ، فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً، فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ فَفِي كُلِّ مِائَةٍ شَاةٌ، وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً وَاحِدَةٌ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ، فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا".
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں (عاملین صدقہ کو) یہ لکھا کہ یہ صدقہ کے وہ فرائض ہیں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض ٹھہرائے ہیں، جن کا اللہ عزوجل نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے، تو جس مسلمان سے اس کے مطابق زکاۃ طلب کی جائے تو وہ دے، اور جس سے اس سے زیادہ مانگا جائے تو وہ نہ دے: پچیس اونٹوں سے کم میں ہر پانچ اونٹ میں ایک بکری ہے، اور جب پچیس اونٹ ہو جائیں تو اس میں پینتیس اونٹوں تک ایک برس کی اونٹنی ہے، اگر ایک برس کی اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا اونٹ (نر) ہے، اور جب چھتیس اونٹ ہو جائیں تو چھتیس سے پینتالیس تک دو برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھیالیس اونٹ ہو جائیں تو چھیالیس سے ساٹھ اونٹ تک میں تین برس کی اونٹنی (یعنی جو ان اونٹنی جو نر کودانے کے لائق ہو گئی ہو) ہے، اور جب اکسٹھ اونٹ ہو جائیں تو اکسٹھ سے پچہتر اونٹوں تک میں چار برس کی اونٹنی ہے، اور جب چھہتر اونٹ ہو جائیں تو چھہتر سے نوے اونٹوں تک میں دو دو برس کی دو اونٹنیاں ہیں، اور جب اکیانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس اونٹوں تک میں تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کے کودانے کے قابل ہو گئی ہوں۔ اور جب ایک سو بیس سے زیادہ ہو گئی ہوں تو ہر چالیس اونٹ میں دو برس کی ایک اونٹنی۔ اور ہر پچاس اونٹ میں تین برس کی ایک اونٹنی ہے، اگر اونٹوں کی عمروں میں اختلاف ہو (یعنی زکاۃ کے لائق اونٹ نہ ہو، اس سے بڑا یا چھوٹا ہو) مثلاً جس شخص پر چار برس کی اونٹنی لازم ہو اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو، تین برس کی اونٹنی ہو۔ تو تین برس کی اونٹنی ہی اس سے قبول کر لی جائے گی اور وہ ساتھ میں دو بکریاں بھی دے۔ اگر اسے بکریاں دینے میں آسانی و سہولت ہو، اور اگر دو بکریاں نہ دے سکتا ہو تو بیس درہم دے۔ اور جس شخص کو تین برس کی اونٹنی دینی پڑ رہی ہو، اور اس کے پاس تین برس کی اونٹنی نہ ہو، چار برس کی اونٹنی ہو تو چار برس کی اونٹنی ہی قبول کر لی جائے گی۔ اور عامل صدقہ (یعنی زکاۃ وصول کرنے والا) اسے بیس درہم واپس کرے گا۔ یا اسے بکریاں دینے میں آسانی ہو تو دو بکریاں دے۔ اور جس کو تین برس کی اونٹنی دینی ہو اور تین برس کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس دو برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور وہ اس کے ساتھ دو بکریاں اور دے، اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کو دو برس کی اونٹنی دینی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو تین برس کی اونٹنی ہو تو وہ اس سے قبول کر لی جائے، اور عامل صدقہ اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے، اور جسے دو سال کی اونٹنی زکاۃ میں دینی ہو، اور دو سال کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو ایک سال کی اونٹنی ہو تو وہی اس سے قبول کر لی جائے، اور اس کے ساتھ وہ دو بکریاں دے اگر یہ اس کے لیے آسان ہو، یا بیس درہم دے، اور جس کے اوپر ایک برس کی اونٹنی دینی لازم ہو، اور اس کے پاس ایک برس کی اونٹنی نہ ہو۔ دو برس کا (نر) اونٹ ہو، تو دو برس کا اونٹ قبول کر لیا جائے۔ (اس کے ساتھ کچھ مزید لینا دینا نہیں ہو گا) اور جس کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے، اور جنگل میں چرائی جانے والی بکریاں جب چالیس ہوں تو ان میں ایک سو بیس بکریوں تک میں ایک بکری زکاۃ ہے، اور ایک سو بیس سے جو ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو بکریوں تک میں دو بکریاں ہیں۔ اور دو سو سے ایک بکری بھی بڑھ جائے تو دو سو سے تین سو تک میں تین بکریاں ہیں اور جب تین سو سے بھی بڑھ جائیں تو پھر ہر ایک سو میں ایک بکری زکاۃ ہے۔ زکاۃ میں کوئی بوڑھا، کانا اور عیب دار جانور نہیں لیا جائے گا، اور نہ بکریوں کا نر جانور لیا جائے گا مگر یہ کہ صدقہ وصول کرنے والا کوئی ضرورت و مصلحت سے مجھے تو لے سکتا ہے، زکاۃ کے ڈر سے دو جدا مالوں کو یکجا نہیں کیا جا سکتا ۱؎ اور نہ یکجا مال کو جدا جدا ۲؎ اور جب آدمی کی چرائی جانے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔ ہاں ان کا مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تودے سکتا ہے، اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے، اور اگر ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں کوئی زکاۃ نہیں۔ ہاں مالک اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2449]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ (خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ان (عاملین زکاۃ) کو یہ تحریر لکھ بھیجی: ”یہ وہ مقرر شدہ صدقات ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمائے اور اللہ تعالیٰ نے ان کا اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا۔ جس مسلمان سے یہ صدقات مقررہ طریق کار کے مطابق طلب کیے جائیں تو وہ لازماً ادا کرے اور جس سے مقررہ مقدار سے زائد مانگے جائیں، وہ نہ دے۔ (ان کی تفصیل یہ ہے: اونٹ پچیس سے کم ہوں تو ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری (زکاۃ) ہے۔ جب اونٹ پچیس ہو جائیں تو ان میں ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ (ایک برس کی اونٹنی) ہے۔ پینتیس تک یہی زکاۃ ہوگی۔ اگر ایک برس کی (مادہ اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا (نر) اونٹ (زکاۃ) ہے۔ جب وہ چھتیس ہو جائیں تو پینتالیس تک ان میں ایک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ (دو برس کی اونٹنی) ہے۔ جب وہ چھیالیس ہو جائیں تو ساٹھ تک ایک «حِقَّةٌ» ”حقہ“ (تین برس کی اونٹنی) ہے، جو نر کی جفتی کے قابل ہو۔ جب اکسٹھ ہو جائیں تو پچھتر تک ایک «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ (چار برس کی مادہ اونٹنی زکاۃ) ہے۔ جب وہ چھہتر ہو جائیں تو نوے تک ان میں دو «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ (دو دو برس کی دو اونٹنیاں) زکاۃ ہیں۔ جب وہ اکانوے ہو جائیں تو ایک سو بیس تک دو «حِقَّةٌ» ”حقے“ (تین تین برس کی دو اونٹنیاں ہیں جو نر کی جفتی کے قابل ہوں۔ جب ایک سو بیس سے زائد ہو جائیں تو ہر چالیس میں ایک «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ اور ہر پچاس میں ایک «حِقَّةٌ» ”حقہ“ (زکوٰۃ) ہے۔ اگر اونٹوں کی عمریں مختلف ہوں (اور مقررہ عمر کے اونٹ نہ مل سکیں) تو جس آدمی کے ذمے «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ ہو اور اس کو «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ میسر نہ ہو، البتہ اس کے پاس «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہو تو اس سے «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہی لی جائے گی اور اس کے ساتھ دو بکریاں لی جائیں گی، اگر اسے میسر ہوں، ورنہ بیس درہم لیے جائیں گے۔ اور جس شخص کے ذمے «حِقَّةٌ» ”حقہ“ زکاۃ ہو مگر اس کے پاس صرف «جَذَعَةٌ» ”جذعہ“ ہے تو اس سے وہی لی جائے گی اور زکاۃ وصول کرنے والا اس کو بیس درہم یا اگر میسر ہوں تو دو بکریاں واپس کرے گا۔ اسی طرح اگر کسی آدمی کے ذمے «حِقَّةٌ» ”حقہ“ زکاۃ بنتی ہو لیکن اس کے پاس «حِقَّةٌ» ”حقہ“ نہ ہو بلکہ اس کے پاس «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ ہو تو وہی اس سے لی جائے گی اور اس کے ساتھ مزید دو بکریاں لی جائیں گی، اگر اسے میسر ہوں، ورنہ بیس درہم لیے جائیں گے۔ اور جس شخص کے ذمے «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ زکاۃ بنتی ہو مگر اس کے پاس صرف «حِقَّةٌ» ”حقہ“ ہو تو اس سے وہی لی جائے گی اور صدقہ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کرے گا۔ اسی طرح جس شخص کے ذمہ «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ زکاۃ بنتی ہو، مگر اس کے پاس «بِنْتُ لَبُونٍ» ”بنت لبون“ نہ ہو بلکہ «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہو تو اس سے وہی لی جائے گی اور اس کے ساتھ مزید دو بکریاں دے گا، اگر اسے میسر ہوں، ورنہ بیس درہم دے گا۔ اور جس آدمی کے ذمے «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ زکاۃ بنتی ہو، مگر اس کے پاس صرف «ابْنُ لَبُونٍ» ”ابن لبون“ ہو تو اس سے وہی لیا جائے گا اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہ لی جائے گی۔ اور جس آدمی کے پاس صرف چار اونٹ ہوں تو ان میں کوئی زکاۃ واجب نہیں مگر مالک خوشی سے دینا چاہے (تو الگ بات ہے)۔ اور جنگل میں چرنے والی بکریاں ہوں اور چالیس ہو جائیں تو ایک سو بیس تک ایک بکری زکاۃ ہے۔ جب اس سے ایک بھی زائد ہو جائے تو دو سو تک دو بکریاں زکاۃ ہے۔ جب اس سے ایک بھی بڑھ جائے تو تین سو تک تین بکریاں زکاۃ ہے۔ اور جب اس سے بڑھ جائیں تو ہر سو میں ایک بکری زکاۃ ہوگی۔ زکاۃ میں بوڑھا یا کانا (عیب والا) جانور یا نر بکرا نہیں لیا جائے گا۔ ہاں، اگر صدقہ وصول کرنے والا چاہے تو نر بکرا لے سکتا ہے۔ علیحدہ علیحدہ جانوروں کو (زکاۃ کے موقع پر) اکٹھا نہیں کیا جائے گا، اسی طرح اکٹھے رہنے والے جانوروں کو زکاۃ کے ڈر سے الگ الگ نہیں کیا جائے گا۔ اور جو زکاۃ دو شریک مالکوں سے وصول کی جائے، وہ آپس میں اپنے جانوروں کے حساب سے تقسیم کر لیں گے۔ اور اگر جنگل اور صحرا میں چرنے والی بکریاں چالیس سے کم ہوں، خواہ ایک ہی کم ہو، ان میں کوئی زکاۃ نہیں مگر مالک خوشی سے دینا چاہے (تو الگ بات ہے)۔ اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکاۃ ہے لیکن اگر ایک سو نوے درہم ہوں (یعنی ۲۰۰ درہم سے کم ہوں) تو ان میں کوئی زکاۃ نہیں مگر یہ کہ مالک خود دینا چاہے۔“” [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2449]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 33 (1448)، 37 (1453)، 38 (1454)، الشرکة 2 (2487)، فرض الخمس5 (3106)، الحیل 3 (6955)، سنن ابی داود/الزکاة4 (1567)، سنن ابن ماجہ/الزکاة10 (1800)، (تحفة الأشراف: 6582)، مسند احمد 1/11-12 ویأتی عند المؤلف برقم2457 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حکم جانوروں کے مالکوں اور زکاۃ کے محصلین دونوں کے لیے ہے، اس کی تفسیر یہ ہے: مثلاً تین آدمیوں کی چالیس چالیس بکریاں ہوں، تو اس صورت میں ہر ایک پر ایک ایک بکری واجب ہے، جب زکاۃ لینے والا آیا تو ان تینوں نے اپنی اپنی بکریوں کو یکجا کر دیا کہ ایک ہی بکری دینی پڑے، ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اگر تین متفرق لوگوں کے پاس انتالیس انتالیس بکریاں ہوں تو ان پر الگ الگ کوئی زکاۃ نہیں، تو عامل ان کو زکاۃ لینے کے لیے یکجا نہ کر دے کہ ایک بکری زکاۃ میں لے لے۔ ۲؎: اس کی تفسیر یہ ہے کہ مثلاً دو ساجھی دار ہیں ہر ایک کی ایک سو ایک، ایک سو ایک، بکریاں ہیں، تو کل ملا کر دو سو دو بکریاں ہوئیں، ان میں تین بکریاں لازم آتی ہیں، جب زکاۃ لینے والا آیا تو ان دونوں نے اپنی اپنی بکریاں الگ الگ کر لیں تاکہ ایک ہی ایک بکری لازم آئے ایسا کرنے سے منع کیا گیا ہے، نیز اسی طرح اگر تین ساجھے داروں کے پاس ساجھا میں ایک سو بیس کی بکریاں ہوں تو اس مجموعہ پر صرف ایک بکری واجب ہو گی، تو عامل زکاۃ لینے کے لیے ان بکریوں کو تین الگ الگ حصوں میں نہ کر دے کہ تین بکریاں لے لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري