🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. بَابُ: زَكَاةِ الْحُلِيِّ
باب: زیور کی زکاۃ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2481
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِنْتٌ لَهَا، فِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ غَلِيظَتَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ:" أَتُؤَدِّينَ زَكَاةَ هَذَا؟" قَالَتْ: لَا , قَالَ:" أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟" , قَالَ: فَخَلَعَتْهُمَا فَأَلْقَتْهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: هُمَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ یمن کی رہنے والی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی تھی جس کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے موٹے کنگن تھے۔ آپ نے فرمایا: کیا تم اس کی زکاۃ دیتی ہو؟ اس نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: کیا تجھے اچھا لگے گا کہ اللہ عزوجل ان کے بدلے قیامت کے دن تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے؟ یہ سن کر اس عورت نے دونوں کنگن (بچی کے ہاتھ سے) نکال لیے۔ اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ڈال دیا، اور کہا: یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2481]
حضرت عمرو بن شعیب کے جد امجد (حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ علاقہ یمن کی ایک عورت اپنی بیٹی سمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی۔ اس کی بیٹی کے ہاتھ میں سونے کے دو بھاری کنگن تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان کی زکاۃ ادا کرتی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تجھے یہ بات پسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ عزوجل تجھے (یا تیری بیٹی کو) آگ کے دو کنگن پہنائے؟ اس عورت نے وہ کنگن فوراً اتار دیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھینک دیے اور کہنے لگی: یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة3 (1563)، (تحفة الأشراف: 8682)، مسند احمد (2/178، 204، 208)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة12 (637) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2482
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُسَيْنًا، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا بِنْتٌ لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِ ابْنَتِهَا مَسَكَتَانِ , نَحْوَهُ مُرْسَلٌ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: خَالِدٌ أَثْبَتُ مِنَ الْمُعْتَمِرِ.
عمرو بن شعیب کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس کے ساتھ اس کی ایک بچی تھی اور اس کی بچی کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے اسی طرح کی روایت ہے جیسے اوپر گزری ہے۔ اور یہ روایت مرسل ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: خالد معتمر سے زیادہ ثقہ راوی ہیں (اس لیے ان کی متصل روایت معتمر کی مرسل سے زیادہ صحیح ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی ایک بیٹی بھی تھی جس کے ہاتھ میں دو کنگن تھے، آگے پوری روایت مذکورہ بالا کی مانند ہے، یہ روایت مرسل، یعنی منقطع ہے (کیونکہ عمرو بن شعیب واقعہ کے عینی شاہد نہیں)، امام ابو عبدالرحمن نسائی رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں: (سابقہ حدیث: ۲۴۸۱ کا راوی) خالد (اس حدیث: ۲۴۸۲ کے راوی) معتمر سے زیادہ ثقہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (حسن) (اس سند میں دو راوی ساقط ہیں، مگرسابقہ سند متصل ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں