سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
26. بَابُ: كَمْ يَتْرُكُ الْخَارِصُ
باب: درخت کے پھل کا تخمینہ لگانے والا کتنا چھوڑ دے؟
حدیث نمبر: 2493
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ خُبَيْبَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: أَتَانَا وَنَحْنُ فِي السُّوقِ، فَقَالَ: قال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا خَرَصْتُمْ فَخُذُوا وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَأْخُذُوا أَوْ تَدَعُوا الثُّلُثَ شَكَّ شُعْبَةُ فَدَعُوا الرُّبُعَ".
سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم درختوں پر پھلوں کا تخمینہ لگاؤ تو جو تخمینہ لگاؤ اسے لو، اور اس میں سے ایک تہائی چھوڑ دو ۱؎ اور اگر تم نہ لے سکو یا تہائی نہ چھوڑ سکو (شعبہ کو شک ہو گیا ہے) تو تم چوتھائی چھوڑ دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة14 (1605)، سنن الترمذی/الزکاة17 (643)، (تحفة الأشراف: 4647)، مسند احمد (3/448، 4/2) (ضعیف) (اس کے راوی ’’عبدالرحمان بن مسعود‘‘ لین الحدیث ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کی زکاۃ نہ لو تاکہ اسے دوستوں اور ہمسایوں پر خرچ کرنے میں کوئی تنگی محسوس نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن