🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

36. بَابُ: مَكِيلَةِ زَكَاةِ الْفِطْرِ
باب: صدقہ فطر ناپنے کے پیمانہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2510
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ أَمِيرُ الْبَصْرَةِ فِي آخِرِ الشَّهْرِ:" أَخْرِجُوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ، فَنَظَرَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، قُومُوا فَعَلِّمُوا إِخْوَانَكُمْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ أَنَّ هَذِهِ الزَّكَاةَ فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ ذَكَرٍ، وَأُنْثَى حُرٍّ، وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ تَمْرٍ أَوْ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ، فَقَامُوا" , خَالَفَهُ هِشَامٌ فَقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ.
حسن بصری کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رمضان کے مہینے کے آخر میں کہا (جب وہ بصرہ کے امیر تھے): تم اپنے روزوں کی زکاۃ نکالو، تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے تو انہوں نے پوچھا: مدینہ والوں میں سے یہاں کون کون ہے (جو بھی ہو) اٹھ جاؤ، اور اپنے بھائیوں کو بتاؤ، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے کہ اس زکاۃ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرد، عورت، آزاد اور غلام پر ایک صاع جو یا کھجور، یا آدھا صاع گی ہوں فرض کیا ہے، تو لوگ اٹھے (اور انہوں نے لوگوں کو بتایا)۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے، انہوں نے «عن محمد بن سيرين» کہا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2510]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، جب وہ بصرہ کے حاکم تھے، ماہ رمضان المبارک کے آخر میں (خطبہ دیا) فرمایا: اپنے روزوں کی زکاۃ (صدقۃ الفطر) نکالو۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے۔ آپ نے فرمایا: یہاں جو مدینہ منورہ کے لوگ ہیں اٹھیں اور اپنے (بصری) بھائیوں کو تعلیم دیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صدقہ ہر مذکر و مؤنث اور آزاد و غلام پر کھجور اور جو کا ایک صاع اور گندم کا آدھا صاع فرض کیا ہے۔ تو لوگ اٹھے۔ ہشام نے حمید کی مخالفت کی ہے، انہوں نے (حسن کے بجائے) ابن سیرین کا نام لیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1581 (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس رضی الله عنہما سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (1581) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2511
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مَخْلَدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: ذَكَرَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ، قَالَ:" صَاعًا مِنْ بُرٍّ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرِ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ".
ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صدقہ فطر کا ذکر کیا۔ تو کہا: گیہوں سے ایک صاع، یا کھجور سے ایک صاع، یا جو سے ایک صاع، یا سلت (جَو کی ایک قسم ہے) سے ایک صاع ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2511]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے صدقۃ الفطر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: صدقۃ الفطر گندم، کھجور، جو یا سُلت سے ایک صاع ادا کرو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6439) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2512
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِكُمْ يَعْنِي: مِنْبَرَ الْبَصْرَةِ يَقُولُ:" صَدَقَةُ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَثْبَتُ الثَّلَاثَةِ 10.
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تمہارے منبر سے یعنی بصرہ کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ یعنی ایوب تینوں میں زیادہ ثقہ ہیں (یعنی: حسن بصری اور ابن سیرین سے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2512]
حضرت ابو رجاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تمہارے، یعنی بصرے کے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے سنا کہ صدقۃ الفطر ہر کھائی جانے والی چیز سے ایک صاع ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (اس حدیث کا راوی ایوب) تینوں میں سے زیادہ قوی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6321) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں