سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب : مكيلة زكاة الفطر
باب: صدقہ فطر ناپنے کے پیمانہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2512
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِكُمْ يَعْنِي: مِنْبَرَ الْبَصْرَةِ يَقُولُ:" صَدَقَةُ الْفِطْرِ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ" , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا أَثْبَتُ الثَّلَاثَةِ 10.
ابورجاء کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تمہارے منبر سے یعنی بصرہ کے منبر سے خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہے تھے: صدقہ فطر گی ہوں سے ایک صاع ہے۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ یعنی ایوب تینوں میں زیادہ ثقہ ہیں (یعنی: حسن بصری اور ابن سیرین سے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2512]
حضرت ابو رجاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو تمہارے، یعنی بصرے کے منبر پر خطبہ ارشاد فرماتے سنا کہ صدقۃ الفطر ہر کھائی جانے والی چیز سے ایک صاع ہے۔ امام ابوعبدالرحمن (نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (اس حدیث کا راوی ایوب) تینوں میں سے زیادہ قوی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6321) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن العباس القرشي، أبو العباس | صحابي | |
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء عمران بن ملحان العطاردي ← عبد الله بن العباس القرشي | ثقة | |
👤←👥أيوب السختياني، أبو عثمان، أبو بكر أيوب السختياني ← عمران بن ملحان العطاردي | ثقة ثبتت حجة | |
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل حماد بن زيد الأزدي ← أيوب السختياني | ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور | |
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء قتيبة بن سعيد الثقفي ← حماد بن زيد الأزدي | ثقة ثبت |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 2512 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث2512
اردو حاشہ:
یہ روایت تین حضرات نے بیان کی ہے، حمید، ہشام، ایوب۔ حمید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا شاگرد حسن بتلایا ہے، ہشام نے ابن سیرین اور ایوب نے ابو رجاء۔ امام نسائی رحمہ اللہ ایوب کی روایت کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ زیادہ ثقہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی دو حضرات کی روایات درست نہیں، عجب نہیں تینوں (حسن، ابن سیرین، ابو رجاء) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان سنا اور بیان کیا ہو۔
یہ روایت تین حضرات نے بیان کی ہے، حمید، ہشام، ایوب۔ حمید نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا شاگرد حسن بتلایا ہے، ہشام نے ابن سیرین اور ایوب نے ابو رجاء۔ امام نسائی رحمہ اللہ ایوب کی روایت کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ وہ زیادہ ثقہ ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ باقی دو حضرات کی روایات درست نہیں، عجب نہیں تینوں (حسن، ابن سیرین، ابو رجاء) نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان سنا اور بیان کیا ہو۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2512]
Sunan an-Nasa'i Hadith 2512 in Urdu
عمران بن ملحان العطاردي ← عبد الله بن العباس القرشي