سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. بَابُ: الْحِنْطَةِ
باب: صدقہ فطر میں گیہوں دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2517
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ خَطَبَ بِالْبَصْرَةِ فَقَالَ: أَدُّوا زَكَاةَ صَوْمِكُمْ فَجَعَلَ النَّاسُ يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ: مَنْ هَاهُنَا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُومُوا إِلَى إِخْوَانِكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ عَلَى الصَّغِيرِ، وَالْكَبِيرِ، وَالْحُرِّ، وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ، وَالْأُنْثَى نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ شَعِيرٍ" , قَالَ الْحَسَنُ: فَقَالَ عَلِيٌّ: أَمَّا إِذَا أَوْسَعَ اللَّهُ فَأَوْسِعُوا أَعْطُوا صَاعًا مِنْ بُرٍّ أَوْ غَيْرِهِ.
حسن (حسن بصریٰ) سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ دیا، تو انہوں نے کہا: تم لوگ اپنے روزوں کی زکاۃ دو (یعنی صدقہ فطر نکالو) تو لوگ ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ تو انہوں نے کہا: یہاں اہل مدینہ میں سے کون کون ہیں؟ تم لوگ اٹھو، اور اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ، انہیں بتاؤ، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر چھوٹے، بڑے، آزاد اور غلام، مذکر اور مونث پر آدھا صاع گی ہوں، یا ایک صاع کھجور، یا جو فرض کیا ہے۔ حسن کہتے ہیں: علی رضی اللہ عنہ نے کہا: رہی بات جب اللہ نے تمہیں وسعت و فراخی دے رکھی ہو تو تم بھی وسعت و فراخی کا مظاہرہ کرو۔ گیہوں وغیرہ (نصف صاع کے بجائے) ایک صاع دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2517]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بصرہ میں خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں کہا: اپنے روزوں کی زکاۃ ادا کرو۔ لوگ (تعجب سے) ایک دوسرے کو دیکھنے لگے تو آپ نے فرمایا: یہاں جو لوگ مدینہ منورہ سے آئے ہوئے ہیں، وہ اپنے (بصری) بھائیوں کی طرف اٹھ کر جائیں اور انہیں تعلیم دیں کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صدقۃ الفطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاد، غلام اور مذکر ومؤنث پر گندم کا نصف صاع اور کھجور یا جو کا ایک صاع مقرر فرمایا ہے۔“ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں مال کی وسعت عطا فرمائی ہے تو تم بھی وسعت اختیار کرو، یعنی گندم ہو یا کوئی اور غلہ، سب میں سے پورا صاع ہی دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1581 (ضعیف الإسناد) (حسن بصری کا ابن عباس سے سماع نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد صحيح المرفوع منه
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، تقدم (1581) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 340