سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: الدَّقِيقِ
باب: صدقہ فطر میں آٹا دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2516
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" لَمْ نُخْرِجْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ دَقِيقٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ"، ثُمَّ شَكَّ سُفْيَانُ فَقَالَ: دَقِيقٍ أَوْ سُلْتٍ.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صدقہ فطر کھجور سے، یا جو سے، یا کشمش سے، یا آٹا یا پنیر سے، یا بے چھلکے والی جو سے ایک صاع ہی نکالا ہے۔ سفیان کو شک ہوا تو انہوں نے «من دقیق أوسلت» شک کے ساتھ روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2516]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ مبارک میں ہم کھجور، جَو، کشمش، آٹا، پنیر یا «سُلْت» وغیرہ سے ایک «صَاع» ہی (صدقۃ الفطر) دیتے تھے، پھر راوی سفیان کو شک ہوا اور انہوں نے کہا: آٹا یا «سُلْت» ۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2513 (حسن صحیح) (آٹے کا ذکر صحیح نہیں ہے)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح دون ذكر الدقيق
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح