سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
73. بَابُ: مَنْ سَأَلَ بِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ عزوجل کی ذات کا وسیلہ دے کر سوال کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2569
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ بَهْزَ بْنَ حَكِيمٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا أَتَيْتُكَ حَتَّى حَلَفْتُ أَكْثَرَ مِنْ عَدَدِهِنَّ لِأَصَابِعِ يَدَيْهِ أَلَّا، آتِيَكَ وَلَا آتِيَ دِينَكَ، وَإِنِّي كُنْتُ امْرَأً لَا أَعْقِلُ شَيْئًا إِلَّا مَا عَلَّمَنِي اللَّهُ وَرَسُولُهُ، وَإِنِّي أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا بَعَثَكَ رَبُّكَ إِلَيْنَا؟ قَالَ:" بِالْإِسْلَامِ" , قَالَ: قُلْتُ: وَمَا آيَاتُ الْإِسْلَامِ؟ قَالَ:" أَنْ تَقُولَ: أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَتَخَلَّيْتُ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ كُلُّ مُسْلِمٍ عَلَى مُسْلِمٍ مُحَرَّمٌ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ، لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ مُشْرِكٍ بَعْدَمَا أَسْلَمَ عَمَلًا، أَوْ يُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ إِلَى الْمُسْلِمِينَ".
معاویہ بن حیدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ بار یہ قسم کھانے کے بعد کہ میں نہ آپ کے پاس آؤں گا اور نہ آپ کا دین قبول کروں گا۔ آپ کے پاس آیا ہوں، میں ایک بے عقل اور ناسمجھ انسان ہوں (اب بھی کچھ نہیں سمجھتا) سوائے اس کے جو اللہ اور اس کے رسول نے مجھے سکھا دیا ہے۔ میں اللہ کی ذات کا حوالہ دے کر آپ سے پوچھتا ہوں: اللہ نے آپ کو ہمارے پاس کیا چیزیں دے کر بھیجا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اسلام دے کر“، میں نے عرض کیا: ”اسلام کی نشانیاں کیا ہیں؟“ تو آپ نے فرمایا: ”یہ ہے کہ تم کہو: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا اور اپنے آپ کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک کر لیا ہے، اور تم نماز قائم کرو، زکاۃ دو۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۱؎۔ ہر ایک دوسرے کا بھائی و مددگار ہے، اللہ تعالیٰ مشرک کا کوئی عمل اس کے بعد کہ وہ اسلام لے آیا ہو قبول نہیں کرتا، یا وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آ ملے ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2569]
حضرت بہز بن حکیم کے دادا (حضرت معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے سے قبل اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی تعداد سے بھی زیادہ قسمیں کھائی تھیں کہ نہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤں گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین قبول کروں گا، اور میں دین کی کوئی سمجھ نہیں رکھتا مگر جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سکھائیں۔ اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کی ذات کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا چیز دے کر ہمارے پاس بھیجا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام دے کر۔“ میں نے عرض کیا: اسلام کی علامات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو کہے: میں نے اپنی ذات کو اللہ تعالیٰ کے تابع کر دیا ہے اور (اس کے علاوہ ہر چیز سے) علیحدہ ہو جائے اور نماز قائم کرے اور زکاۃ ادا کرے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کے لیے قابل احترام ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے مددگار بھائی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی مشرک سے اس کے اسلام لانے کے بعد بھی کوئی عمل قبول نہیں فرماتا حتیٰ کہ وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں سے آملے۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2438 (حسن)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر مسلمان کی جان، مال عزت و آبرو دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔ ۲؎: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دار الشرک سے دار السلام کی طرف ہجرت واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي: حسن