سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. بَابُ: تَفْسِيرِ الْمِسْكِينِ
باب: مسکین کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 2572
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور ایک لقمہ یا دو لقمے (در در) گھماتے اور (گھر گھر) چکر لگواتے ہیں۔ بلکہ مسکین سوال سے بچنے والا ہے ۱؎ اگر تم چاہو تو پڑھو «لا يسألون الناس إلحافا» ”وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے“ (البقرہ: ۲۷۳)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 53 (1479)، تفسیر البقرة 48 (4539)، صحیح مسلم/الزکاة 34 (1039)، (تحفة الأشراف: 14221)، مسند احمد (2/395) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی نہیں مانگتا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة اقرؤوا
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2573
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ، الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ" , قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ؟ , قَالَ:" الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ، وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں“، لوگوں نے پوچھا: پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا: ”مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 53 (1479)، (تحفة الأشراف: 13829)، موطا امام مالک/صفة النبي 5 (7) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2574
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ" , قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ حَاجَتَهُ، فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمے دو لقمے اور ایک کھجور، دو کھجور در در پھرائیں“۔ لوگوں نے کہا: پھر مسکین کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”مسکین وہ ہے: جو مالدار نہ ہو، اور لوگ اس کی محتاجی و حاجت مندی کو جان بھی نہ سکیں کہ اسے صدقہ دیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 23 (1632)، (تحفة الأشراف: 15277)، مسند احمد (2/260) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1632) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341
حدیث نمبر: 2575
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي، فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا، فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ".
ام بجید رضی الله عنہا (جو ان عورتوں میں سے ہیں جن ہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: (کبھی ایسا ہوتا ہے) کہ مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے، اور میں اسے دینے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں پاتی؟ آپ نے فرمایا: ”اگر تم اسے دینے کے لیے صرف جلی ہوئی کھر ہی پاؤ تو اسے وہی دے دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2566 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح