🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

76. بَابُ: تَفْسِيرِ الْمِسْكِينِ
باب: مسکین کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2572
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَاللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، إِنَّ الْمِسْكِينَ الْمُتَعَفِّفُ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور یا دو کھجور ایک لقمہ یا دو لقمے (در در) گھماتے اور (گھر گھر) چکر لگواتے ہیں۔ بلکہ مسکین سوال سے بچنے والا ہے ۱؎ اگر تم چاہو تو پڑھو «‏لا يسألون الناس إلحافا‏» وہ لوگوں سے گڑگڑا کر نہیں مانگتے (البقرہ: ۲۷۳)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2572]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک کھجور، دو کھجوریں یا ایک لقمہ، دو لقمے واپس کر دیں، بلکہ مسکین وہ ہے جو حاجت مند ہونے کے باوجود مانگنے سے پرہیز کرے۔ تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ﴿لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا﴾ [سورة البقرة: 273] (صدقات کے مستحق وہ لوگ ہیں) جو مانگتے وقت لوگوں کے گلے نہیں پڑ جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 53 (1479)، تفسیر البقرة 48 (4539)، صحیح مسلم/الزکاة 34 (1039)، (تحفة الأشراف: 14221)، مسند احمد (2/395) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو ضرورت مند ہوتے ہوئے بھی نہیں مانگتا۔
قال الشيخ الألباني: شاذ بزيادة اقرؤوا
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2573
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ، الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ" , قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ؟ , قَالَ:" الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ، وَلَا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ، وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلَ النَّاسَ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جو اس طرح لوگوں کے پاس چکر لگائے کہ ایک لقمہ دو لقمے یا ایک کھجور دو کھجوریں اسے در در پھرائیں، لوگوں نے پوچھا: پھر مسکین کون ہے؟ فرمایا: مسکین وہ ہے جس کے پاس اتنا مال و دولت نہ ہو کہ وہ اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے دوسروں کا محتاج نہ رہے، اور وہ محسوس بھی نہ ہو سکے کہ وہ مسکین ہے کہ اسے ضرورت مند سمجھ کر صدقہ دیا جائے۔ اور نہ ہی وہ لوگوں کے سامنے مانگنے کے لیے ہاتھ پھیلائے کھڑا ہوتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2573]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گھومنے پھرنے والا شخص مسکین نہیں جسے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں پلٹا دیتی ہیں۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: تو پھر مسکین کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ گزارا کر سکے۔ نہ اس (کے فقر) کا کسی کو پتا ہی چلتا ہے کہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ وہ خود کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 53 (1479)، (تحفة الأشراف: 13829)، موطا امام مالک/صفة النبي 5 (7) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2574
أَخْبَرَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ الْأُكْلَةُ وَالْأُكْلَتَانِ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ" , قَالُوا: فَمَا الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى، وَلَا يَعْلَمُ النَّاسُ حَاجَتَهُ، فَيُتَصَدَّقَ عَلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک لقمے دو لقمے اور ایک کھجور، دو کھجور در در پھرائیں۔ لوگوں نے کہا: پھر مسکین کون ہے؟ اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: مسکین وہ ہے: جو مالدار نہ ہو، اور لوگ اس کی محتاجی و حاجت مندی کو جان بھی نہ سکیں کہ اسے صدقہ دیں۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2574]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسکین وہ نہیں جسے ایک دو لقمے یا ایک دو کھجوریں پلٹا دیتی ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پھر مسکین کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو اتنا مال نہیں رکھتا جو کفایت کر سکے اور لوگوں کو اس (کے فقر) کا پتا نہیں چلتا کہ اس پر صدقہ کیا جا سکے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2574]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الزکاة 23 (1632)، (تحفة الأشراف: 15277)، مسند احمد (2/260) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1632) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 341

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2575
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ بُجَيْدٍ وَكَانَتْ مِمَّنْ بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمِسْكِينَ لَيَقُومُ عَلَى بَابِي، فَمَا أَجِدُ لَهُ شَيْئًا أُعْطِيهِ إِيَّاهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ لَمْ تَجِدِي شَيْئًا تُعْطِينَهُ إِيَّاهُ إِلَّا ظِلْفًا مُحْرَقًا، فَادْفَعِيهِ إِلَيْهِ".
ام بجید رضی الله عنہا (جو ان عورتوں میں سے ہیں جن ہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی) کہتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: (کبھی ایسا ہوتا ہے) کہ مسکین میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے، اور میں اسے دینے کے لیے کوئی چیز موجود نہیں پاتی؟ آپ نے فرمایا: اگر تم اسے دینے کے لیے صرف جلی ہوئی کھر ہی پاؤ تو اسے وہی دے دو۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2575]
حضرت ام بجید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اور انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کا شرف حاصل ہے، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کبھی کوئی مسکین سائل میرے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے مگر میرے پاس اسے دینے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اسے دینے کے لیے تیرے پاس کچھ بھی نہ ہو سوائے جلے ہوئے کھر کے، تو وہی اسے دے دے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2566 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں