🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. بَابُ: الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ
باب: مولفۃ القلوب (جنہیں تالیف قلب کے لیے دیا گیا ہو) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2579
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: بَعَثَ عَلِيٌّ وَهُوَ بِالْيَمَنِ بِذُهَيْبَةٍ بِتُرْبَتِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَسَمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَرْبَعَةِ نَفَرٍ: الْأَقْرَعِ بْنِ حَابِسٍ الْحَنْظَلِيِّ، وَعُيَيْنَةَ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيِّ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ عُلَاثَةَ الْعَامِرِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي كِلَابٍ، وَزَيْدٍ الطَّائِيِّ، ثُمَّ أَحَدِ بَنِي نَبْهَانَ، فَغَضِبَتْ قُرَيْشٌ وَقَالَ: مَرَّةً أُخْرَى صَنَادِيدُ قُرَيْشٍ , فَقَالُوا: تُعْطِي صَنَادِيدَ نَجْدٍ وَتَدَعُنَا , قَالَ:" إِنَّمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ لِأَتَأَلَّفَهُمْ" , فَجَاءَ رَجُلٌ كَثُّ اللِّحْيَةِ، مُشْرِفُ الْوَجْنَتَيْنِ، غَائِرُ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئُ الْجَبِينِ مَحْلُوقُ الرَّأْسِ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ يَا مُحَمَّدُ , قَالَ:" فَمَنْ يُطِيعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِنْ عَصَيْتُهُ، أَيَأْمَنُنِي عَلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَلَا تَأْمَنُونِي"، ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَاسْتَأْذَنَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فِي قَتْلِهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ ضِئْضِئِ هَذَا قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَقْتُلُونَ أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَيَدَعُونَ أَهْلَ الْأَوْثَانِ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، لَئِنْ أَدْرَكْتُهُمْ لَأَقْتُلَنَّهُمْ قَتْلَ عَادٍ".
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی ملا ہوا غیر صاف شدہ سونے کا ایک ڈلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار افراد: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فرازی، اور علقمہ بن علاثہ جو عامری تھے پھر وہ بنی کلاب کے ایک فرد بن گئے، اور زید جو طائی تھے پھر بنی نبہان میں سے ہو گئے، کے درمیان تقسیم کر دیا۔ (یہ دیکھ کر) قریش کے لوگ غصہ ہو گئے۔ راوی نے دوسری بار کہا: قریش کے سرکردہ لوگ غصہ ہو گئے، اور کہنے لگے کہ آپ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہم کو چھوڑ دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ ان کی تالیف قلب کروں (یعنی انہیں رجھا سکوں)“، اتنے میں گھنی داڑھی والا، ابھرے گالوں والا دھنسی آنکھوں والا، ابھری پیشانی والا، منڈے سر والا ایک شخص آیا اور کہنے لگا: محمد اللہ سے ڈرو، آپ نے فرمایا: ”اگر میں ہی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو پھر اللہ عزوجل کی تابعداری کون کرے گا؟ وہ مجھے سارے زمین والوں میں اپنا امین (معتمد) سمجھتا ہے، اور تم مجھے امین نہیں سمجھتے“، پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا تو حاضرین میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت طلب کی (لوگوں کا خیال ہے کہ وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا ۱؎، اہل اسلام کو قتل کریں گے، اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ یہ لوگ اسلام سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم کو چھیدتا ہوا نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے انہیں پایا، تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کر دوں گا“۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2579]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے، جب وہ یمن کے امیر تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غیر صاف شدہ سونے کی ڈلی بھیجی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار آدمیوں کے درمیان تقسیم فرما دیا: اقرع بن حابس حنظلی، عیینہ بن بدر فزاری، علقمہ بن علاثہ عامری جو بنو عامر کی ایک شاخ بنو کلاب میں سے تھے اور زید طائی جو بنو طے کی ایک شاخ بنو نبہان سے تھے۔ اس پر قریش کے (نو مسلم) سردار ناراض ہو گئے اور کہنے لگے: آپ نجد کے (نو مسلم) سرداروں کو دے رہے ہیں اور ہمیں محروم رکھ رہے ہیں (حالانکہ ہم آپ کے قریبی ہیں؟) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ ان کی تالیفِ قلب کروں۔“ ایک شخص آیا جس کی داڑھی گھنی، رخسار ابھرے ہوئے، آنکھیں گہری، ماتھا آگے کو بڑھا ہوا اور سر منڈا ہوا تھا، وہ کہنے لگا: اے محمد! اللہ سے ڈر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہوں تو اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار کون ہوگا؟ اللہ تعالیٰ تو مجھے زمین والوں (تمام انسانوں جنوں) پر امین جانتا ہے اور تم مجھے امین نہیں جانتے۔“ پھر وہ شخص پیٹھ پھیر کر چلا گیا۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ سے اس کے قتل کی اجازت طلب کی۔ اہل علم کا خیال ہے کہ وہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اجازت تو نہ دی مگر) فرمایا: ”یقیناً اس کی نسل (قبیلے) میں ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے (انہیں کچھ نہیں کہیں گے)۔ وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیز تیر اپنے نشانے کو پھاڑ کر نکل جاتا ہے۔ واللہ! اگر میں نے ان کو پا لیا تو انہیں قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2579]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأنبیاء 6 (3344)، والمغازی 61 (4351)، وتفسیرالتوبة10 (4667)، التوحید 23 (7432)، 57 (7562) صحیح مسلم/الزکاة 47 (1063)، سنن ابی داود/السنة31 (4764)، (تحفة الأشراف: 4132)، مسند احمد 3/68، 72، 73، ویأتی عند المؤلف فی تحریم الدم 26 (برقم4106) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ خارجی لوگ ہیں جن کا ظہور علی رضی الله عنہ کی خلافت میں ہوا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں