🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ: حَجِّ الْمَرْأَةِ عَنِ الرَّجُلِ
باب: مرد کی طرف سے عورت کے حج کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ وَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ" أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ" وَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھے، تو قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے آئی، تو فضل اسے دیکھنے لگے، اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، اور آپ فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، تو اس عورت نے پوچھا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر اللہ کے عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حال میں پایا: انتہائی بوڑھے ہو چکے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں کر لو، یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2642]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (میرے بھائی) فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹنی ہی پر سوار تھے کہ خثعم قبیلے کی ایک عورت آکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھنے لگی۔ فضل اسے دیکھنے لگے اور وہ انہیں دیکھنے لگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیر دیا۔ وہ عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے فریضہ حج نے، جو اس نے اپنے بندوں پر عائد کیا ہے، میرے والد کو بہت بڑھاپے کی حالت میں پایا ہے، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے، تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) یہ حجۃ الوداع کی بات ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2635 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2643
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْ" أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ" , فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ، فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی اور فضل بن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اپنے بندوں پر عائد کردہ اللہ کے فریضہ حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہو چکے ہیں وہ سواری پر سیدھے نہیں رہ سکتے، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کی طرف سے پورا ہو جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں ہو جائے گا، تو فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اسے مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک خوبصورت عورت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل بن عباس کو پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2643]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ حجۃ الوداع میں خثعم قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سواری پر بیٹھے تھے۔ وہ کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر فریضہ حج نے میرے والد کو بہت بڑھاپے کی حالت میں پایا ہے، وہ سواری پر بیٹھ بھی نہیں سکتے۔ اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو کیا ان کی طرف سے کفایت ہو جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اس عورت کو دیکھنے لگے (کیونکہ) وہ خوش شکل تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فضل رضی اللہ عنہ کا چہرہ پکڑ کر دوسری طرف پھیر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2635 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں