سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. بَابُ: الْوَقْتِ الَّذِي خَرَجَ فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ لِلْحَجِّ
باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے مدینہ سے حج کے لیے نکلنے کے وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2651
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ , تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ،" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ الْمَوَاقِيتُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مدینہ سے) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2651]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کے لیے) چلے تو ذوالقعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہم (عموماً) حج ہی کی نیت رکھتے تھے مگر جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب ہوئے تو آپ نے حکم فرمایا: ”جن کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ جب بیت اللہ کا طواف کر چکیں تو احرام ختم کر دیں (حلال ہو جائیں)۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 34 (1561)، 115 (1709)، 124 (1720)، والجہاد 105 (2952)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابن ماجہ/الحج 41 (2981)، (تحفة الأشراف: 17933)، سنن ابی داود/الحج23 (1783)، موطا امام مالک/الحج58 (179)، مسند احمد (6/2 12، 194، 266، 273)، سنن الدارمی/المناسک31 (1888)، ویأتي عند المؤلف برقم: 2806 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه