سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
42. بَابُ: مَوْضِعِ الطِّيبِ
باب: خوشبو لگانے کی جگہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2696
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم ہیں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2696]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مجھے یوں لگتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2696]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2695 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2697
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي أُصُولِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2697]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالوں کی جڑوں میں خوشبو کی چمک دیکھا کرتی تھی جبکہ آپ محرم ہوتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2697]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2695 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2698
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کی مانگ میں اس حال میں کہ آپ محرم ہوتے خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2698]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2698]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الطہارة 14 (271)، اللباس 70 (5918)، صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، (تحفة الأشراف: 15928) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2699
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، قَالَ: : نَبَّأَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ غُنْدُرٌ , عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر میں اس حال میں کہ آپ محرم خوشبو کی چمک دیکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2699]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تحقیق میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرِ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھی جبکہ آپ احرام کی حالت میں تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2699]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 7 (1190)، (تحفة الأشراف: 15954)، مسند احمد (6/109، 173، 175، 224، 230) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2700
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں، اور آپ لبیک پکار رہے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2700]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ ” «لَبَّيْكَ» “ ”میں حاضر ہوں“ پکار رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2700]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2699 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2701
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ , عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ هَنَّادٌ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ، ادَّهَنَ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُهُ، حَتَّى أَرَى وَبِيصَهُ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ" , تَابَعَهُ إِسْرَائِيلُ عَلَى هَذَا الْكَلَامِ , وَقَالَ: عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيه، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے (ہناد کی روایت میں ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھنے کا ارادہ کرتے) تو اچھے سے اچھا عطر جو آپ کو میسر ہوتا لگاتے یہاں تک کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی میں دیکھتی۔ امام نسائی کہتے ہیں: اس بات پر ابواسحاق کی اسرائیل نے متابعت کی ہے انہوں نے اسے «عن عبدالرحمٰن بن الأسود عن أبيه عن عائشة» “ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2701]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ہناد (راوی) نے (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ فرماتے تو اپنے پاس موجود بہترین خوشبو لگاتے، حتیٰ کہ میں اس کی چمک آپ کے سر اور داڑھی مبارک میں دیکھا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16035) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 2702
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا كُنْتُ أَجِدُ مِنَ الطِّيبِ حَتَّى أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی سے اچھی خوشبو جو مجھے میسر ہوتی لگاتی تھی یہاں تک کہ احرام سے پہلے میں آپ کے سر اور داڑھی میں خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2702]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام سے قبل اپنے پاس موجود بہترین خوشبو لگاتی تھی حتیٰ کہ میں اس خوشبو کی چمک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی مبارک میں دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 74 (5923)، صحیح مسلم/الحج 7 (1189)، (تحفة الأشراف: 16010)، مسند احمد (6/209، 250، 254) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2703
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگوں میں خوشبو کی چمک تین دن بعد (بھی) دیکھی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2703]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تحقیق میں نے (احرام باندھنے سے) تین دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15979)، مسند احمد (6/41، 264) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، إبراهيم النخعي مدلس وعنعن. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
حدیث نمبر: 2704
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كُنْتُ أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں تین دن بعد (بھی) خوشبو کی چمک دیکھتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2704]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں (احرام باندھنے سے) تین دن بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھا کرتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2704]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحج 18 (2928)، (تحفة الأشراف: 16026) (صحیح بما قبلہ)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2928) شريك و أبو إسحاق مدلسان وعنعنا. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 371
حدیث نمبر: 2705
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ بِشْرٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الطِّيبِ عِنْدَ الْإِحْرَامِ؟ فَقَالَ: لَأَنْ أَطَّلِيَ بِالْقَطِرَانِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ" لَقَدْ كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَطُوفُ فِي نِسَائِهِ ثُمَّ يُصْبِحُ يَنْضَحُ طِيبًا".
محمد بن منتشر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام کے وقت خوشبو کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: تارکول لگا لینا میرے نزدیک اس سے زیادہ بہتر ہے۔ تو میں نے اس بات کا ذکر عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے، میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگاتی تھی، پھر آپ اپنی بیویوں کا چکر لگاتے، پھر آپ اس حال میں صبح کرتے تو آپ کے جسم سے خوشبو پھوٹ رہی ہوتی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2705]
حضرت محمد بن منتشر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس سے تو اچھا یہ ہے کہ میں گندھک مل لوں۔ میں نے یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کی تو وہ فرمانے لگیں: «رَحِمَ اللّٰهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ» ”اللہ تعالیٰ ابو عبدالرحمن (ابن عمر رضی اللہ عنہ) پر رحم فرمائے!“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگایا کرتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کے پاس جاتے، پھر صبح ہوتی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوشبو کی مہک آ رہی ہوتی تھی (اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو احرام باندھتے)۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2705]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 417 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح ق وليس عند خ ذكر الإطلاء
قال الشيخ زبير على زئي: حسن