سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
75. بَابُ: رُكُوبِ الْبَدَنَةِ لِمَنْ جَهَدَهُ الْمَشْىُ
باب: چلتے چلتے تھک جانے والا شخص ہدی کے جانور پر سوار ہو سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 2803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَسُوقُ بَدَنَةً وَقَدْ جَهَدَهُ الْمَشْيُ، قَالَ:" ارْكَبْهَا" قَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ:" ارْكَبْهَا وَإِنْ كَانَتْ بَدَنَةً".
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو ہدی کا اونٹ لے جاتے دیکھا اور وہ تھک کر چور ہو چکا تھا آپ نے اس سے فرمایا: ”اس پر سوار ہو جاؤ“ وہ کہنے لگا ہدی کا اونٹ ہے، آپ نے فرمایا: ”وار ہو جاؤ اگرچہ وہ ہدی کا اونٹ ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو قربانی کا جانور ہانک کر لے جا رہا تھا۔ وہ بے چارہ بڑی مشقت سے چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس اونٹ پر سوار ہو جا۔“ اس نے کہا: یہ قربانی کا اونٹ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوار ہو جا اگرچہ یہ قربانی کا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2803]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 396) وقد أخرجہ: صحیح مسلم/ الحج 65 (1323)، مسند احمد (3/99، 106) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم