سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ أَنْ يُخَمَّرَ وَجْهُ الْمُحْرِمِ وَرَأْسُهُ إِذَا مَاتَ
باب: محرم کے مر جانے پر اس کا منہ اور سر ڈھانپنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2860
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ حَاجًّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ لَفَظَهُ بَعِيرُهُ، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُغَسَّلُ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا يُغَطَّى رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يَقُومُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا کہ اس کے اونٹ نے اسے گرا دیا جس سے وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دیا جائے، اور دونوں کپڑوں ہی میں اسے کفنا دیا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا اٹھے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2860]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کر رہا تھا۔ اسے اس کے اونٹ نے گرا دیا اور وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے غسل دیا جائے، دو کپڑوں میں کفن دیا جائے اور اس کے سر اور چہرے کو نہ ڈھانپا جائے کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہتا ہوا اٹھے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2860]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2714 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن