سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ تَخْمِيرِ، رَأْسِ الْمُحْرِمِ إِذَا مَاتَ
باب: محرم کے مر جانے پر اس کے سر کو ڈھانپنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 2861
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ حَرَامًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَّ مِنْ فَوْقِ بَعِيرِهِ، فَوُقِصَ وَقْصًا، فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَلْبِسُوهُ ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلَبِّي".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص احرام باندھے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا، تو وہ اپنے اونٹ پر سے گر پڑا تو اسے کچل ڈالا گیا اور وہ مر گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کی پتی سے غسل دو، اور اسے اس کے یہی دونوں (احرام کے) کپڑے پہنا دو، اور اس کا سر نہ ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک پکارتا ہوا آئے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2861]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک محرم شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج کو) آیا، (عرفات میں) وہ اپنے اونٹ سے گر پڑا، اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسے (کفن میں) اسی کے (احرام والے) دو کپڑے پہنا دو اور اس کا سر نہ ڈھانپو، کیونکہ یہ قیامت کے دن «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہتا ہوا آئے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2861]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1905 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن