سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
121. بَابُ: اسْتِقْبَالِ الْحَجِّ
باب: حاجی کے استقبال کا بیان۔
حدیث نمبر: 2896
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُويَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ، وَابْنُ رَوَاحَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَقُولُ: خَلُّوا بَنِي الْكُفَّارِ عَنْ سَبِيلِهِ الْيَوْمَ نَضْرِبْكُمْ عَلَى تَأْوِيلِهِ ضَرَبًا يُزِيلُ الْهَامَ عَنْ مَقِيلِهِ وَيُذْهِلُ الْخَلِيلَ عَنْ خَلِيلِهِ , قَالَ عُمَرُ: يَا ابْنَ رَوَاحَةَ فِي حَرَمِ اللَّهِ وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَلِّ عَنْهُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَلَامُهُ أَشَدُّ عَلَيْهِمْ مِنْ وَقْعِ النَّبْلِ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عمرہ قضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن رواحہ آپ کے آگے تھے اور کہہ رہے تھے: «خلوا بني الكفار عن سبيله اليوم نضربكم على تأويله ضربا يزيل الهام عن مقيله ويذهل الخليل عن خليله» ”اے کافروں کی اولاد! ان کے راستے سے ہٹ جاؤ، ۱؎ ان کے اشارے پر آج ہم تمہیں ایسی مار ماریں گے جو تمہارے سروں کو گردنوں سے اڑا دے گی اور دوست کو اس کے دوست سے غافل کر دے گی“، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن رواحہ رضی اللہ عنہ! تم اللہ کے حرم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایسے شعر پڑھتے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھوڑو انہیں (پڑھنے دو) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، ان کے یہ اشعار کفار پر تیر لگنے سے بھی زیادہ سخت ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2896]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے آگے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے: اے کافروں کی اولاد! آپ کا راستہ چھوڑ دو۔ آج ہم آپ کے حکم پر تمھیں ایسی ضرب لگائیں گے جو کھوپڑیوں کو گردنوں سے جدا کر دے گی اور دوست کو جگری دوست سے غافل کر دے گی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن رواحہ! تم اللہ تعالیٰ کے حرم میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں یہ اشعار کہتے ہو؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! رہنے دو۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس کا کلام ان کے لیے تیروں کی بوچھاڑ سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2896]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2876 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: باب پر استدلال ابن رواحہ کے اسی قول «خلو بنی الکفار» سے ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2897
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا" قَدِمَ مَكَّةَ اسْتَقْبَلَهُ أُغَيْلِمَةُ بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: فَحَمَلَ وَاحِدًا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَآخَرَ خَلْفَهُ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لائے تو بنی ہاشم کے چھوٹے بچوں نے آپ کا استقبال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کو اپنے آگے بٹھا لیا، اور دوسرے کو اپنے پیچھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2897]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے تو بنی ہاشم کے نوجوانوں نے آپ کا استقبال کیا۔ آپ نے ایک کو اپنے آگے اور ایک کو اپنے پیچھے (سواری پر) بٹھا لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2897]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمرة 13 (1798)، اللباس 99 (5965)، (تحفة الأشراف: 6053)، مسند احمد (1/250) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري