سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
129. بَابُ: الصَّلاَةِ فِي الْحِجْرِ
باب: حطیم میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2915
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ أَبِي عَلْقَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَدْخُلَ الْبَيْتَ، فَأُصَلِّيَ فِيهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي، فَأَدْخَلَنِي الْحِجْرَ، فَقَالَ:" إِذَا أَرَدْتِ دُخُولَ الْبَيْتِ، فَصَلِّي هَا هُنَا، فَإِنَّمَا هُوَ قِطْعَةٌ مِنْ الْبَيْتِ، وَلَكِنَّ قَوْمَكِ اقْتَصَرُوا حَيْثُ بَنَوْهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں چاہتی تھی کہ میں بیت اللہ کے اندر داخل ہوں، اور اس میں نماز پڑھوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ اور مجھے حطیم کے اندر کر دیا، پھر فرمایا: ”جب تم بیت اللہ کے اندر جا کر نماز پڑھنا چاہو تو یہاں آ کر پڑھ لیا کرو، یہ بھی بیت اللہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ لیکن تمہاری قوم نے بناتے وقت اتنا کم کر کے بنایا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2915]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میری خواہش تھی کہ میں بیت اللہ میں داخل ہو کر نماز پڑھوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے حجر میں داخل کر دیا اور فرمایا: ”جب تمہارا دل بیت اللہ میں داخل ہونے کو چاہے تو یہیں (حجر میں) نماز پڑھ لیا کرو، یہ بھی تو بیت اللہ ہی کا ایک حصہ ہے، لیکن تیری قوم (قریش) نے جب بیت اللہ تعمیر کیا تو اسے چھوٹا کر دیا۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2915]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 94 (2028)، سنن الترمذی/الحج 48 (876)، (تحفة الأشراف: 17961)، مسند احمد (6/67، 92- 93)، سنن الدارمی/المناسک 44 (1911) (حسن، صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا انہوں نے خرچ کی کمی کے باعث کیا تھا۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح