سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
131. بَابُ: الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ فِي الْبَيْتِ
باب: بیت اللہ (کعبہ مشرفہ) کے اندر ذکر اور دعا کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2917
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ، فَأَمَرَ بِلَالًا، فَأَجَافَ الْبَاب، وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ، فَمَضَى، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ بَاب الْكَعْبَةِ، جَلَسَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ، ثُمَّ قَامَ، حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ، فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَخَدَّهُ عَلَيْهِ، وَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَسَأَلَهُ، وَاسْتَغْفَرَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ، فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ، وَالْمَسْأَلَةِ، وَالِاسْتِغْفَارِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ:" هَذِهِ الْقِبْلَةُ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا، اور مغفرت طلب کی۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر، تہلیل، تسبیح کی، اور اللہ کی ثنا بیان کی، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی، پھر باہر آئے، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر پلٹے تو فرمایا: ”یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2917]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ بیت اللہ ان دنوں چھ ستونوں پر قائم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (دروازے سے) سیدھے گئے حتیٰ کہ جب ان دو ستونوں کے درمیان پہنچے جو بیت اللہ کے دروازے کے سامنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے رہے، دعائیں کرتے رہے اور بخشش طلب فرماتے رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور کعبے کی پچھلی دیوار (دروازے والی) کے مقابل سامنے والی دیوار کی طرف گئے، اپنا چہرہ اور رخسار دیوار سے لگائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا فرمائی، اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگیں اور بخشش طلب فرماتے رہے، پھر کعبے کے تمام کونوں میں تشریف لے گئے اور ہر کونے میں تکبیر، تہلیل، تسبیح، ثنا، دعا اور استغفار فرماتے رہے، پھر باہر تشریف لائے اور کعبے کے دروازے کے عین سامنے دو رکعتیں پڑھیں، پھر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”یہ قبلہ ہے، یہ قبلہ ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2917]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن