سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
158. بَابُ: تَرْكِ اسْتِلاَمِ الرُّكْنَيْنِ الآخَرَيْنِ
باب: طواف میں دوسرے دونوں رکنوں کے نہ چھونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، وَمَالِكٍ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ:" رَأَيْتُكَ لَا تَسْتَلِمُ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ" , قَالَ:" لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ إِلَّا هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ" , مُخْتَصَرٌ.
عبید بن جریج کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میں نے آپ کو کعبہ کے چاروں ارکان میں سے صرف انہیں دونوں یمانی (رکن یمانی اور حجر اسود) کا استلام کرتے دیکھا، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں رکنوں کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام کرتے نہیں دیکھا، یہ حدیث مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2953]
حضرت عبید بن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ صرف ان دو یمنی کونوں (حجر اسود اور رکن یمانی) ہی کو چھوتے ہیں۔ (کیا وجہ ہے؟) انھوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دو کونوں (رکن یمانی اور حجر اسود) کے علاوہ کسی کونے کو چھوتے نہیں دیکھا۔ یہ روایت مختصر ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2953]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر الأرقام 117، 2761 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2954
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع , عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُ مِنْ أَرْكَانِ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَ الْأَسْوَدَ وَالَّذِي يَلِيهِ مِنْ نَحْوِ دُورِ الْجُمَحِيِّينَ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے ارکان میں سے کسی کا استلام نہیں کرتے تھے سوائے حجر اسود اور اس رکن کے جو جمحی لوگوں کے گھروں کی طرف حجر اسود سے قریب ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2954]
حضرت سالم کے والد (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے کونوں میں سے صرف دو کونوں ہی کو چھوتے تھے، ایک حجرِ اسود اور دوسرا اس کے ساتھ والا جو جمحیین کے گھروں (محلے) کی طرف ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2954]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 40 (1267)، سنن ابن ماجہ/المناسک 27 (2946)، (تحفة الأشراف: 6988) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 2955
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا الْيَمَانِيَ، وَالْحَجَرَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2955]
حضرت عبداللہ (بن عمر) رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دو کونے، حجر اسود اور رکن یمانی، چھوتے دیکھا ہے، میں نے کبھی بھی، سختی ہو یا سہولت، ان دو کونوں کو چھونا ترک نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2955]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 57 (1606)، صحیح مسلم/الحج40 (1268)، (تحفة الأشراف: 8152)، مسند احمد (2/40)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 2956
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ الْحَجَرِ فِي رَخَاءٍ، وَلَا شِدَّةٍ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، آسانی اور پریشانی کسی حال میں بھی اس کا استلام نہیں چھوڑا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2956]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حجر اسود کو چھوتے دیکھا ہے، میں نے شدت ہو یا سہولت، کبھی اسے چھونا ترک نہیں کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2956]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 7596)، مسند احمد (2/33، 40، 59) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح