سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
185. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَأَهْدَى
باب: حج کا احرام باندھنے والے کے پاس ہدی ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2993
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ , عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ قَالَتْ: فَلَمَّا أَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ:" مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحْلِلْ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لی تو آپ نے فرمایا ”جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2993]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (مکہ مکرمہ کو) نکلے۔ ہم (میں سے اکثر) صرف حج کی نیت رکھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ اور صفا مروہ کے طواف کر لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ حلال ہو جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2993]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 29142، 2951، 2651 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح