سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
186. بَابُ: مَا يَفْعَلُ مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى
باب: عمرہ کا احرام باندھنے والے کے پاس ہدی ہو تو وہ کیا کرے؟
حدیث نمبر: 2994
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِالْحَجِّ، وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ، فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَهْدَى، فَلَا يَحِلَّ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجَّةِ، فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے بعض نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرہ کا، اور ساتھ ہدی بھی لائے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے عمرہ کا تلبیہ پکارا اور ہدی ساتھ نہیں لایا ہے، تو وہ احرام کھول ڈالے، اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہے، اور ساتھ ہدی لے کر آیا ہے تو وہ احرام نہ کھولے، اور جس نے حج کا تلبیہ پکارا ہے تو وہ اپنا حج پورا کرے“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: تو میں ان لوگوں میں سے تھی جن ہوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2994]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے، ہم میں سے کچھ نے حج کا احرام باندھا اور بعض نے عمرے کا، بعض قربانی کا جانور بھی ساتھ لائے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے عمرے کا احرام باندھا اور وہ قربانی نہیں لایا تو (عمرہ کرنے کے بعد) وہ حلال ہو جائے، اور جس نے عمرے کا احرام باندھا اور وہ قربانی بھی ساتھ لایا ہے تو وہ (قربانی ذبح ہونے سے پہلے) حلال نہ ہو، اور جس شخص نے حج کا احرام باندھا ہے وہ اپنا حج مکمل کرے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16749)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 34 (1562)، والمغازی77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1778)، مسند احمد (6/37، 119) (صحیح) (لیست عندصحیح البخاری/وکنت ممن أہل بالعمرة)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 2995
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ، وَمَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ"، قَالَتْ: وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ هَدْيٌ فَأَقَامَ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ، فَأَحْلَلْتُ، فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَتَطَيَّبْتُ مِنْ طِيبِي، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: اسْتَأْخِرِي عَنِّي، فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے آئے، جب مکہ کے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے (یعنی احرام کھول دے) اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ اپنے احرام پر باقی رہے“، زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہدی تھی تو وہ اپنے احرام پر باقی رہے اور میرے پاس ہدی نہ تھی تو میں نے احرام کھول دیا، اپنے کپڑے پہن لیے اور اپنی خوشبو میں سے، خوشبو لگائی، پھر (جا کر) زبیر کے پاس بیٹھی، تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ تو میں نے ان سے کہا: کیا آپ ڈر رہے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2995]
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم (حجۃ الوداع میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کی «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہتے ہوئے (مکہ کو) آئے۔ جب ہم مکہ مکرمہ کے قریب ہوئے تو آپ نے فرمایا: ”جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور نہیں، وہ (عمرہ کر کے) حلال ہو جائے اور جس شخص کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے۔“ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: (میرے خاوند) حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، لہٰذا وہ اپنے احرام پر قائم رہے۔ میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئی اور میں نے اپنے عام کپڑے پہن لیے اور خوشبو بھی لگائی، پھر میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے قریب ہو کر بیٹھی تو وہ کہنے لگے: مجھ سے دور ہو کر بیٹھو۔ میں نے (مذاق میں) کہا: کیا آپ کو خطرہ ہے کہ میں آپ پر زبردستی کود پڑوں گی؟ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2995]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 29 (1236)، سنن ابن ماجہ/الحج 41 (2983)، (تحفة الأشراف: 15739)، مسند احمد (6/350، 351) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم