سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
193. بَابُ: التَّلْبِيَةِ فِيهِ
باب: عرفات جاتے ہوئے تلبیہ پکارنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3004
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ غَدَاةَ عَرَفَةَ مَا تَقُولُ فِي التَّلْبِيَةِ فِي هَذَا الْيَوْمِ؟ قَالَ:" سِرْتُ هَذَا الْمَسِيرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَكَانَ مِنْهُمُ الْمُهِلُّ وَمِنْهُمُ الْمُكَبِّرُ، فَلَا يُنْكِرُ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَلَى صَاحِبِهِ".
محمد بن ابی بکر ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے عرفہ کی صبح انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آج کے دن تلبیہ پکارنے کے سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے یہ مسافت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ساتھ طے کی ہے، ان میں سے بعض لوگ تلبیہ پکارتے تھے، اور بعض تکبیر پکارتے تھے تو ان میں سے کوئی اپنے ساتھی پر نکیر نہیں کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3004]
حضرت محمد بن ابوبکر ثقفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرفہ کے دن کی صبح حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اس دن «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ کہنے کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں؟ وہ فرمانے لگے: میں اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ چلا، ان میں سے کوئی تکبیریں کہتا تھا اور کوئی «لَبَّيْكَ» ”لبیک“ پڑھتا تھا، لیکن کوئی ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3004]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن