سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
195. بَابُ: النَّهْىِ عَنْ صَوْمِ، يَوْمِ عَرَفَةَ
باب: عرفہ کے دن (حاجی کے لیے) روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3007
أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ يَوْمَ عَرَفَةَ، وَيَوْمَ النَّحْرِ، وَأَيَّامَ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ".
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ یوم نحر اور ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ کے دن) ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۱؎“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3007]
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یوم عرفہ (۹ ذوالحجہ)، یوم نحر (۱۰ ذوالحجہ) اور ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذوالحجہ) ہم مسلمانوں کے لیے عید کے دن ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3007]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصیام49 (2419)، سنن الترمذی/الصیام59 (773)، مسند احمد 4/152، سنن الدارمی/الصوم47 (1805) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عرفہ کے دن روزہ کی ممانعت اس حج کرنے والے شخص کے لیے خاص ہے جو اس دن میدان عرفات میں ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن