سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
205. بَابُ: كَيْفَ السَّيْرُ مِنْ عَرَفَة
باب: عرفہ سے کیسے چلے؟
حدیث نمبر: 3026
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ مَسِيرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، قَالَ:" كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ان سے حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کے بارے میں پوچھا گیا (کہ آپ کیسے چل رہے تھے) تو انہوں نے کہا: آپ «عنق» (تیز چال) چل رہے تھے، اور جب خالی جگہ پاتے تو «نص» کی رفتار چلتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3026]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے حجۃ الوداع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم (کی سواری) کی چال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: درمیانی چال چلتے تھے، جب خالی جگہ پاتے تو سواری کو مزید تیز فرما دیتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحج 93 (1666)، الجہاد 136 (2999)، المغازي 77 (4413)، صحیح مسلم/الحج 47 (1246)، سنن ابی داود/الحج 64 (1923)، سنن ابن ماجہ/الحج 58 (3017)، (تحفة الأشراف: 104)، موطا امام مالک/الحج 57 (176)، مسند احمد (5/205، 210)، سنن الدارمی/المناسک 51 (1922)، ویأتی عند المؤلف برقم: 3054 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «نص» «عنق» سے بھی تیز چال کو کہتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه