سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
206. بَابُ: النُّزُولِ بَعْدَ الدَّفْعِ مِنْ عَرَفَةَ
باب: عرفات سے چلنے کے بعد گھاٹی میں اترنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3027
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ مَالَ إِلَى الشِّعْبِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ أَتُصَلِّي الْمَغْرِبَ؟ قَالَ:" الْمُصَلَّى أَمَامَكَ".
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو پہاڑ کی گھاٹی کی طرف مڑے، وہ کہتے ہیں: تو میں نے عرض کیا: کیا (یہاں) آپ مغرب کی نماز پڑھیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز پڑھنے کی جگہ آگے ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3027]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے واپس لوٹے تو (راستے میں) ایک گھاٹی کی طرف ہو لیے۔ میں نے عرض کیا: (اللہ کے رسول!) مغرب کی نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: ”(نہیں) نماز کی جگہ تو آگے (مزدلفہ میں) ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3027]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 35 (181)، الحج 95 (1672)، الحج 47 (1280)، سنن ابی داود/المناسک 64 (1925)، (تحفة الأشراف: 115)، موطا امام مالک/الحج 57 (176)، مسند احمد (5/199، 208، 210)، سنن الدارمی/المناسک 52 (1923، 1924) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3028
أَخْبَرَنَا مُحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ، فَبَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ أَمَامَكَ" , فَلَمَّا أَتَيْنَا الْمُزْدَلِفَةَ، لَمْ يَحُلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى صَلَّى.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی میں اترے جہاں امراء اترتے ہیں، تو آپ نے پیشاب کیا، پھر ہلکا وضو کیا، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا نماز کا ارادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے ہو گی“ (یعنی آگے چل کر پڑھیں گے) تو جب ہم مزدلفہ آئے، تو ابھی (قافلے کے) پیچھے والے لوگ اترے بھی نہ تھے کہ آپ نے نماز شروع کر دی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3028]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (عرفات سے واپسی کے دوران میں) اس گھاٹی میں اترے تھے جہاں (آج کل) امراء و حکام اترتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز پڑھیں گے؟ فرمایا: ”(نہیں) نماز تو آگے (مزدلفہ میں) جا کر پڑھیں گے۔“ جب ہم مزدلفہ میں آئے تو ابھی سب لوگوں نے اونٹوں سے سامان نہیں اتارے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3028]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3027 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن