🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

211. بَابُ: فِيمَنْ لَمْ يُدْرِكْ صَلاَةَ الصُّبْحِ مَعَ الإِمَامِ بِالْمُزْدَلِفَةِ
باب: مزدلفہ میں فجر امام کے ساتھ نہ پڑھ سکنے والے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3042
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيل، وَدَاوُدَ , وَزَكَرِيِّا , عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِالْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى مَعَنَا صَلَاتَنَا هَذِهِ هَا هُنَا ثُمَّ أَقَامَ مَعَنَا وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ".
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ میں ٹھہرے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ یہاں یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھ لی، اور ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا، اور اس سے پہلے وہ عرفہ میں رات یا دن میں (کسی وقت بھی) وقوف کر چکا ہے تو اس کا حج پورا ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3042]
حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مزدلفہ میں وقوف فرماتے (ٹھہرے) دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یہ نماز (نماز فجر) اس جگہ ہمارے ساتھ پڑھی، پھر ہمارے ساتھ ٹھہرا رہا اور وہ اس سے قبل دن یا رات کسی وقت عرفات میں وقوف کر چکا ہو تو اس کا حج پورا ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3042]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 69 (1950)، سنن الترمذی/الحج 57 (851)، سنن ابن ماجہ/الحج 57 (3016)، (تحفة الأشراف: 9900)، مسند احمد 4/15، 261، 262، سنن الدارمی/المناسک 54 (1930) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3043
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدْرَكَ جَمْعًا مَعَ الْإِمَامِ وَالنَّاسِ حَتَّى يُفِيضَ مِنْهَا، فَقَدْ أَدْرَكَ الْحَجَّ، وَمَنْ لَمْ يُدْرِكْ مَعَ النَّاسِ وَالْإِمَامِ، فَلَمْ يُدْرِكْ".
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مزدلفہ کو امام اور لوگوں کے ساتھ پا لے یہاں تک کہ وہ وہاں سے واپس منیٰ کو لوٹے تو اس نے حج پا لیا۔ اور جو امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفہ کو نہ پا سکا تو اس نے حج نہیں پایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3043]
حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے امام اور لوگوں کے ساتھ مزدلفے کا وقوف پا لیا اور پھر وہ منیٰ کو گیا تو اس نے حج پا لیا (بشرطیکہ وہ اس سے پہلے عرفات سے ہو آیا ہو)۔ اور جس شخص نے لوگوں اور امام کے ساتھ یہ وقوف نہ پایا (یعنی اتنا لیٹ ہو گیا) تو اس کا حج نہیں ہوا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اچھے ڈھنگ سے نہیں پایا، یہ تاویل اس لیے کی گئی ہے کہ مزدلفہ میں رات گزارنا حج کا رکن نہیں ہے کہ اس کے فوت ہو جانے سے حج فوت ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3044
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَيَّارٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُضَرِّسٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَقْبَلْتُ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ لَمْ أَدَعْ حَبْلًا إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا، وَقَدْ وَقَفَ قَبْلَ ذَلِكَ بِعَرَفَةَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں طے کے دونوں پہاڑوں سے ہوتا ہوا آیا ہوں، میں نے ریت کا کوئی ٹیلہ نہیں چھوڑا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ نماز (یعنی نماز فجر) ہمارے ساتھ پڑھی، اور وہ اس سے پہلے عرفہ میں رات یا دن کے کسی حصے میں ٹھہر چکا ہے، تو اس کا حج پورا ہو گیا، اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3044]
حضرت عروہ بن مضرس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ آیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں بنو طے کے دو پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے کسی ٹیلے یا پہاڑ کو نہیں چھوڑا مگر اس پر وقوف کیا ہے تو کیا میرا حج ہو گیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے یہ نماز (فجر کی) ہمارے ساتھ پڑھی جبکہ وہ اس سے پہلے رات یا دن کے کسی حصے میں عرفات میں وقوف کر چکا ہو تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3044]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3042 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3045
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسِ بْنِ أَوْسِ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ لَأْمٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَمْعٍ فَقُلْتُ: هَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى هَذِهِ الصَّلَاةَ مَعَنَا، وَوَقَفَ هَذَا الْمَوْقِفَ حَتَّى يُفِيضَ، وَأَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ".
عروہ بن مضرس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں مزدلفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: کیا میرا حج ہوا؟ آپ نے فرمایا: جس نے ہمارے ساتھ ہماری یہ نماز (یعنی نماز فجر) پڑھی، اور اس مقام پر لوٹتے وقت تک ٹھہرا، اور اس سے پہلے عرفات سے رات یا دن میں کسی وقت لوٹ کر آیا، تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3045]
حضرت عروہ بن مضرس بن اوس بن حارثہ بن لام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مزدلفہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کیا میرا حج ہو گیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ نماز (نماز فجر) ہمارے ساتھ (مزدلفہ میں) پڑھی اور ہمارے ساتھ یہ وقوف (وقوف مزدلفہ) کیا حتیٰ کہ منیٰ کو جائے اور اس سے پہلے وہ رات یا دن کو کسی وقت عرفات سے ہو آیا ہو تو اس کا حج پورا ہو گیا اور اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3042 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3046
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيل، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَتَيْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي، وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي مَا بَقِيَ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟ فَقَالَ:" مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ هَا هُنَا مَعَنَا وَقَدْ أَتَى عَرَفَةَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَقَدْ قَضَى تَفَثَهُ، وَتَمَّ حَجُّهُ".
عروہ بن مضرس طائی کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، اور عرض کیا: میں آپ کے پاس طے کے دونوں پہاڑوں سے ہو کر آیا ہوں میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے، اور میں خود بھی تھک کر چور چور ہو چکا ہوں۔ ریت کا کوئی ٹیلہ ایسا نہیں رہا جس پر میں نے وقوف نہ کیا ہو، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ نے فرمایا: جس نے یہاں ہمارے ساتھ نماز فجر پڑھی، اور اس سے پہلے وہ عرفہ آ چکا ہو تو اس نے اپنا میل و کچیل دور کر لیا، اور اس کا حج پورا ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3046]
حضرت عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ کے پاس بنو طے کے پہاڑوں سے آیا ہوں۔ میں نے اپنی سواری کو تھکا دیا ہے اور اپنے آپ کو بھی مشقت میں ڈالا ہے۔ جو بھی ٹیلہ یا پہاڑ آیا، میں نے اس پر وقوف کیا ہے، تو کیا میرا حج ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے صبح کی نماز یہاں (مزدلفہ میں) ہمارے ساتھ پڑھ لی جبکہ وہ اس سے پہلے عرفات سے ہو آیا ہو تو اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا اور اس کا حج پورا ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3046]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3042 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3047
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَعْمَرَ الدِّيلِيَّ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَأَتَاهُ نَاسٌ مِنْ نَجْدٍ، فَأَمَرُوا رَجُلًا فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَجِّ؟، فَقَالَ:" الْحَجُّ عَرَفَةُ، مَنْ جَاءَ لَيْلَةَ جَمْعٍ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَدْ أَدْرَكَ حَجَّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ، مَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ , ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا، فَجَعَلَ يُنَادِي بِهَا فِي النَّاسِ.
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی کہتے ہیں کہ میں عرفہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ آپ کے پاس نجد سے کچھ لوگ آئے تو انہوں نے ایک شخص کو حکم دیا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا: حج عرفہ (میں وقوف) ہے، جو شخص مزدلفہ کی رات میں صبح کی نماز سے پہلے عرفہ آ جائے، تو اس نے اپنا حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین دن ہیں، تو جو دو ہی دن قیام کر کے چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، اور جو تاخیر کرے اور تیرہویں کو بھی رکے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہے۔ پھر آپ نے ایک شخص کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، جو لوگوں میں اسے پکار پکار کر کہنے لگا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3047]
حضرت عبدالرحمن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرفہ میں موجود تھا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے۔ انہوں نے ایک آدمی سے کہا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج وقوفِ عرفہ کا نام ہے۔ جو شخص (عرفہ سے ہو کر) صبح کی نماز سے پہلے مزدلفہ میں آ گیا، اس نے حج پا لیا۔ منیٰ کے دن تین ہیں: جو شخص دو دن ٹھہر کر جلدی آ جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو شخص تیسرے دن بھی ٹھہرا رہا، اس پر بھی کوئی گناہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے ایک آدمی بٹھایا جو لوگوں میں یہ اعلان کرتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3047]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3019 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3048
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ".
ابو جعفر بن محمد باقر کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پورا مزدلفہ موقف (ٹھہرنے کی جگہ) ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3048]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مزدلفہ سارے کا سارا وقوف کی جگہ ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3048]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3018 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں