سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: ثَوَابِ مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
باب: اللہ کے راستے میں جس کے قدم گرد آلود ہو جائیں اس کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3118
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: لَحِقَنِي عَبَايَةُ بْنُ رَافِعٍ وَأَنَا مَاشٍ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنَّ خُطَاكَ هَذِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَبَا عَبْسٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ اغْبَرَّتْ قَدَمَاهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ حَرَامٌ عَلَى النَّارِ".
یزید بن ابی مریم کہتے ہیں کہ میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا کہ (راستے میں) مجھے عبایہ بن رافع ملے، کہا: خوش ہو جاؤ! آپ کے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں (کیونکہ) میں نے ابوعبس بن جبر انصاری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے دونوں قدم اللہ کے راستے میں گرد آلود ہو جائیں تو وہ آگ یعنی جہنم کے لیے حرام ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3118]
حضرت یزید بن ابی مریم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں جمعہ کے لیے پیدل جا رہا تھا کہ مجھے حضرت عبایہ بن رافع رحمہ اللہ آ ملے، وہ کہنے لگے: خوش ہو جاؤ کیونکہ تیرے یہ قدم اللہ کے راستے میں اٹھ رہے ہیں اور میں نے حضرت ابو عبس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے قدم اللہ تعالیٰ کے راستے میں غبار آلود ہو جائیں، وہ شخص آگ پر حرام ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3118]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجمعة 18 (907)، الجہاد 16 (2811)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 7 (1632)، (تحفة الأشراف: 9692)، مسند احمد (3/479) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی وہ شخص جہنم میں نہ جائے گا، اللہ کرے ایسا ہی ہو، انہوں نے جمعہ کے لیے نکلنے کو بھی فی سبیل اللہ میں شامل فرمایا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري