🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. بَابُ: مَنْ قَاتَلَ لِيُقَالَ فُلاَنٌ جَرِيءٌ
باب: بہادر کہلانے کے لیے لڑنے والے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3139
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ: أَيُّهَا الشَّيْخُ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَوَّلُ النَّاسِ يُقْضَى لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ اسْتُشْهِدَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: قَاتَلْتُ فِيكَ حَتَّى اسْتُشْهِدْتُ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ قَاتَلْتَ لِيُقَالَ فُلَانٌ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ، وَقَرَأَ الْقُرْآنَ فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، قَالَ: فَمَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُهُ، وَقَرَأْتُ فِيكَ الْقُرْآنَ، قَالَ: كَذَبْتَ وَلَكِنَّكَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ، لِيُقَالَ عَالِمٌ، وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِيُقَالَ قَارِئٌ، فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ، فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ حَتَّى أُلْقِيَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَعْطَاهُ مِنْ أَصْنَافِ الْمَالِ كُلِّهِ، فَأُتِيَ بِهِ فَعَرَّفَهُ نِعَمَهُ، فَعَرَفَهَا، فَقَالَ: مَا عَمِلْتَ فِيهَا؟ قَالَ: مَا تَرَكْتُ مِنْ سَبِيلٍ تُحِبُّ؟ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَلَمْ أَفْهَمْ تُحِبُّ كَمَا أَرَدْتُ أَنْ يُنْفَقَ فِيهَا إِلَّا أَنْفَقْتُ فِيهَا لَكَ قَالَ: كَذَبْتَ، وَلَكِنْ لِيُقَالَ إِنَّهُ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ، ثُمَّ أُمِرَ بِهِ فَسُحِبَ عَلَى وَجْهِهِ، فَأُلْقِيَ فِي النَّارِ".
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (کی مجلس) سے لوگ جدا ہونے لگے، تو اہل شام میں سے ایک شخص نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: شیخ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی کوئی حدیث مجھ سے بیان کیجئے، کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: قیامت کے دن پہلے پہل جن لوگوں کا فیصلہ ہو گا، وہ تین (طرح کے لوگ) ہوں گے، ایک وہ ہو گا جو شہید کر دیا گیا ہو گا، اسے لا کر پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی (ان) نعمتوں کی پہچان کروائے گا (جو نعمتیں اس نے انہیں عطا کی تھیں)۔ وہ انہیں پہچان (اور تسلیم کر) لے گا۔ اللہ (اس) سے کہے گا: یہ ساری نعمتیں جو ہم نے تجھے دی تھیں ان میں تم نے کیا کیا وہ کہے گا: میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ میں شہید کر دیا گیا۔ اللہ فرمائے گا: تو جھوٹ بول رہا ہے۔ بلکہ تو اس لیے لڑاتا کہ کہا جائے کہ فلاں تو بڑا بہادر ہے چنانچہ تجھے ایسا کہا گیا ۱؎، پھر حکم دیا جائے گا: اسے لے جاؤ تو اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر لے جایا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ایک وہ ہو گا جس نے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا، اور قرآن پڑھا، اسے لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا، اللہ (اس سے) کہے گا: ان نعمتوں کا تو نے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور اسے (دوسروں کو) سکھایا اور تیرے واسطے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ کہے گا: تو نے جھوٹ اور غلط کہا تو نے تو علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کہا جائے تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے چنانچہ تجھے کہا گیا۔ پھر اسے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹ کر اسے لے جایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ ایک اور شخص ہو گا جسے اللہ تعالیٰ نے بڑی وسعت دی ہو گی طرح طرح کے مال و متاع دیئے ہوں گے اسے حاضر کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے اپنی عطا کردہ نعمتوں کی پہچان کرائے گا تو وہ انہیں پہچان لے گا۔ اللہ (اس سے) کہے گا: ان کے شکریہ میں تو نے کیا کیا وہ کہے گا: اے رب! میں نے کوئی جگہ ایسی نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہے کہ وہاں خرچ کیا جائے۔ مگر میں نے وہاں خرچ نہ کیا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بکتا ہے، تو نے یہ سب اس لیے کیا کہ تیرے متعلق کہا جائے کہ تو بڑا سخی اور فیاض آدمی ہے چنانچہ تجھے کہا گیا، اسے یہاں سے لے جانے کا حکم دیا جائے گا چنانچہ چہرے کے بل گھسیٹتا ہوا اسے لے جایا جائے گا۔ اور لے جا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں «تحب» (کا مفہوم) جیسا میں چاہتا تھا سمجھ نہ سکا لیکن جو میں نے سمجھا وہ یہ ہے کہ استاذ نے «تحب» کے آگے «أن ينفق فيها» کہا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3139]
حضرت سلیمان بن یسار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو شام والوں میں سے ناتل نامی ایک شخص نے کہا: بزرگوار محترم! مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: سب سے پہلے جن کا فیصلہ قیامت کے دن کیا جائے گا، وہ تین اشخاص ہوں گے: ایک وہ آدمی جو شہید ہوا، اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے احسانات گنوائے گا، وہ انہیں تسلیم کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے تیرے راستے میں جہاد کیا حتیٰ کہ شہید ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ تو اس لیے لڑا تھا کہ کہا جائے: فلاں شخص بہت بہادر ہے۔ یہ بات (دنیا میں) بہت کہہ دی گئی، پھر حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ دوسرا وہ شخص جس نے علم سیکھا اور سکھایا اور قرآن مجید پڑھا۔ اسے بھی لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنے احسانات گنوائے گا، وہ ان سب کا اعتراف کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے بدلے کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور تیری رضا مندی کے لیے قرآن پڑھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا۔ تو نے تو اس لیے علم سیکھا تھا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے۔ یہ سب کچھ تو کہہ دیا گیا۔ اس کے بارے میں بھی حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ اور تیسرا شخص کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر وسعت فرمائی اور اسے ہر قسم کا مال دیا۔ اسے بھی لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، وہ انہیں تسلیم کرے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا کیا؟ وہ کہے گا: میں نے کوئی ایسی جگہ نہیں چھوڑی جہاں تو پسند کرتا ہو (ابو عبدالرحمن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں «تُحِبُّ» کا لفظ اس طرح نہیں سمجھ سکا جس طرح میں چاہتا تھا) کہ خرچ کیا جائے مگر میں نے تیری رضا مندی کے لیے اس جگہ خرچ کیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا، بلکہ تو نے یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ لوگ کہیں کہ یہ بہت بڑا سخی ہے۔ یہ بات تو (دنیا میں) کہہ دی گئی، پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3139]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الإمارة 43 (1905)، (تحفة الأشراف: 13482)، مسند احمد (2/322، 321) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی تیری جرأت و بہادری کی دنیا میں بڑی تعریفیں ہوئیں اور بڑا چرچا رہا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں