سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا
باب: اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے لڑنے والے مجاہد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3138
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَخْبَرَهُمْ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: الرَّجُلُ يُقَاتِلُ لِيُذْكَرَ، وَيُقَاتِلُ لِيَغْنَمَ، وَيُقَاتِلُ لِيُرَى مَكَانُهُ، فَمَنْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ؟ قَالَ:" مَنْ قَاتَلَ لِتَكُونَ كَلِمَةُ اللَّهِ هِيَ الْعُلْيَا، فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آدمی لڑتا ہے تاکہ اس کا ذکر اور چرچا ہو ۱؎، لڑتا ہے تاکہ مال غنیمت حاصل کرے، لڑتا ہے تاکہ اللہ کے راستے میں لڑنے والوں میں اس کا مقام و مرتبہ جانا پہچانا جائے تو کس لڑنے والے کو اللہ کے راستے کا مجاہد کہیں گے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے کا مجاہد اسے کہیں گے جو اللہ کا کلمہ ۲؎ بلند کرنے کے لیے لڑے“۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3138]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ایک آدمی شہرت کے لیے لڑائی کرتا ہے یا غنیمت حاصل کرنے کے لیے لڑتا ہے یا اپنا مرتبہ ظاہر کرنے کے لیے لڑائی لڑتا ہے، ان میں سے اللہ کے راستے میں کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس لیے لڑائی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند ہو تو وہی اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3138]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العلم 45 (2183)، الجہاد 15 (2810)، الخمس 10 (3126)، التوحید 28 (7458)، صحیح مسلم/الإمارة 42 (1904)، سنن ابی داود/الجہاد 26 (2518)، سنن الترمذی/فضائل 16 (1646)، سنن ابن ماجہ/الجہاد 13 (2783)، (تحفة الأشراف: 8999)، مسند احمد (4/392، 397، 401، 402، 405، 417) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی ریاکاری کے ساتھ لڑتا ہے تاکہ لوگوں میں اپنی بہادری کی وجہ سے جانا اور پہچانا جائے۔ ۲؎: یعنی اس کے دین کی بلندی کے لیے لڑے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه