سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ: ثَوَابِ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ عزوجل کے راستے میں شہید ہونے والے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3156
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ: رَجُلٌ يَوْمَ أُحُدٍ: أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَيْنَ أَنَا؟ قَالَ:" فِي الْجَنَّةِ، فَأَلْقَى تَمَرَاتٍ فِي يَدِهِ، ثُمَّ قَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ".
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن ایک شخص نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے کہا: آپ بتائیں اگر میں اللہ کے راستے میں شہید ہو گیا تو میں کہاں ہوں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ہو گے“، (یہ سنتے ہی) اس نے اپنے ہاتھ میں لی ہوئی کھجوریں پھینک دیں، (میدان جنگ میں اتر گیا) جنگ کی اور شہید ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3156]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ مجھے بتائیں، اگر میں اللہ تعالیٰ کے راستے میں مارا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا؟ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”جنت میں۔“ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کھجوریں (جنہیں وہ کھا رہا تھا) پھینک دیں اور (کافروں سے) لڑنے لگا حتیٰ کہ وہ شہید ہو گیا۔ [سنن نسائي/كتاب الجهاد/حدیث: 3156]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 17 (4044)، صحیح مسلم/الإمارة 41 (1899)، (تحفة الأشراف: 2530)، موطا امام مالک/الجہاد 18 (42)، مسند احمد (3/308) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه