🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ: عَلَى مَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ
باب: کیا چیز دیکھ کر عورت سے نکاح کیا جائے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3228
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ" قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: بِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبًا، قَالَ:" فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُكَ" , قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ , قَالَ:" فَذَاكَ إِذًا إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ عَلَى دِينِهَا، وَمَالِهَا، وَجَمَالِهَا، فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ".
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی پھر ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ہو گئی تو آپ نے پوچھا: جابر! کیا تم نے شادی کی ہے؟ جابر کہتے ہیں کہ میں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: کنواری سے یا بیوہ سے؟ ۱؎ میں نے کہا: بیوہ سے، آپ نے فرمایا: کنواری سے کیوں نہ کی؟ جو تجھے (جوانی کے) کھیل کھلاتی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! میری چند بہنیں میرے ساتھ ہیں، مجھے (کنواری نکاح کر کے لانے میں) خوف ہوا کہ وہ کہیں میری اور ان کی محبت میں رکاوٹ (اور دوری کا باعث) نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: پھر تو تم نے ٹھیک کیا، عورت سے شادی اس کا دین دیکھ کر، اس کا مال دیکھ کر اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر کی جاتی ہے۔ تو تم کو دیندار عورت کو ترجیح دینی چاہیئے۔ تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۲؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3228]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ایک عورت سے نکاح کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے ملے اور فرمایا: جابر! تو نے شادی کر لی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: کنواری سے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا: بیوہ سے۔ آپ نے فرمایا: تو نے کنواری سے کیوں نہ شادی کی؟ وہ تجھ سے دل لگی کرتی۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری کئی بہنیں ہیں۔ میں نے خدشہ محسوس کیا کہ کنواری عورت میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ نہ بن جائے۔ آپ نے فرمایا: پھر ٹھیک ہے۔ عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے یا مال و جمال کی وجہ سے۔ تو دین والی عورت کو پسند کر۔ تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3228]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرضاع 15 (715)، سنن ابن ماجہ/النکاح 7 (1860)، (تحفة الأشراف: 2436)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 4 (1086)، مسند احمد (3/302)، سنن الدارمی/النکاح 32 (2217) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس کا نکاح پہلے کسی سے ہو چکا تھا پھر اس کی طلاق ہو گئی یا شوہر کا انتقال ہو گیا ہو۔ ۲؎: یعنی اگر ایسا نہ کرو گے تو نقصان اٹھاؤ گے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں