سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ: كَرَاهِيَةِ تَزْوِيجِ الْعَقِيمِ
باب: بانجھ عورت سے شادی کرنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3229
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ، وَمَنْصِبٍ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَنَهَاهُ، فَقَالَ:" تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ، الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ".
معقل بن یسار رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ مجھے ایک عورت ملی ہے جو حسب اور مرتبہ والی ہے لیکن اس سے بچے نہیں ہوتے ۱؎، کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ نے اسے (اس سے شادی کرنے سے) منع فرما دیا۔ پھر دوبارہ آپ کے پاس پوچھنے آیا تو آپ نے پھر اسے روکا۔ پھر تیسری مرتبہ پوچھنے آیا، پھر بھی آپ نے منع کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”زیادہ بچے جننے والی، اور زیادہ محبت کرنے والی عورت سے شادی کرو ۲؎ کیونکہ میں تمہارے ذریعہ کثرت تعداد میں (دیگر اقوام پر) غالب آنا چاہتا ہوں ۳؎“۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3229]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: مجھے ایک خاندانی اور مرتبے والی عورت ملی ہے مگر وہ بانجھ ہے، تو کیا میں اس سے شادی کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا، پھر وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر منع فرمایا، پھر وہ تیسری بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر روک دیا۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسی عورتوں سے شادی کرو جو زیادہ بچے جننے والی، خوب محبت کرنے والی ہوں، یقیناً میں تمہاری کثرت کی وجہ سے فخر کروں۔“ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3229]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 4 (2050)، (تحفة الأشراف: 11477) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: انہیں اس کا علم بایں طور ہوا ہو گا کہ اسے یا تو حیض نہیں آتا تھا یا جس شوہر کے پاس تھی وہاں اس سے کوئی بچہ ہی پیدا نہیں ہوا۔ ۲؎: زیادہ بچہ جننے والی اور شوہر سے زیادہ محبت کرنے والی عورت کا اندازہ اس کی ماں، اور ماں کی ماں کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اور یہ چیز جانوروں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ ۳؎: یعنی قیامت کے دن تعداد امت میں دیگر انبیاء سے بڑھ جانا چاہتا ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن