🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. بَابُ: عَرْضِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ عَلَى مَنْ يَرْضَى
باب: پسندیدہ شخص سے شادی کے لیے اپنی بیٹی پیش کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ:" تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسٍ يَعْنِي ابْنَ حُذَافَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا، فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ، فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، فَقَالَ: سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِيتُهُ، فَقَالَ: مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا , قَالَ عُمَرُ: فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ، فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، فَكُنْتُ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَلَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ، فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا، وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا نَكَحْتُهَا".
عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا بیوہ ہو گئیں، وہ خنیس بن حذافہ کے نکاح میں تھیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ میں سے تھے جو جنگ بدر میں موجود تھے، اور انتقال مدینہ میں فرمایا تھا)۔ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا، میں نے ان کے سامنے حفصہ کا تذکرہ کیا، اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کی شادی حفصہ سے کر دوں، انہوں نے کہا: میں اس پر غور کروں گا۔ چند راتیں گزرنے کے بعد میں ان سے ملا تو انہوں نے کہا: میں ان دنوں شادی کرنا نہیں چاہتا۔ عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا، اور ان سے کہا: اگر آپ پسند کریں تو حفصہ کو آپ کے نکاح میں دے دوں تو انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا۔ مجھے ان کے اس رویے سے عثمان رضی اللہ عنہ کے جواب سے بھی زیادہ غصہ آیا، پھر چند ہی دن گزرے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے میرے پاس اپنا پیغام بھیجا تو میں نے ان کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کر دیا۔ (اس نکاح کے بعد) ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہا: جب آپ نے مجھے حفصہ سے نکاح کا پیغام دیا اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہ دیا، تو اس وقت آپ کو مجھ پر بڑا غصہ آیا ہو گا؟ میں نے کہا: ہاں، انہوں نے کہا: جب آپ نے مجھ پر حفصہ کا معاملہ پیش کیا تو میں نے آپ کو محض اس وجہ سے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا تذکرہ سن چکا تھا اور میں آپ کا راز افشاء کرنا نہیں چاہتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے شادی نہ کرتے تو میں ضرور ان سے شادی کر لیتا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3250]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (میری بیٹی) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے بیوہ ہوگئیں، یہ خنیس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوۂ بدر میں بھی حاضر ہوئے تھے، وہ مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے۔ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے ملا اور انہیں حفصہ رضی اللہ عنہما سے نکاح کی پیش کش کی، میں نے کہا: اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکاح آپ سے کر دوں؟ وہ کہنے لگے: میں اس بارے میں غور و فکر کروں گا۔ چند دن گزرے تو میں پھر انہیں ملا تو وہ کہنے لگے: آج کل میرا نکاح کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا: اگر آپ پسند فرمائیں تو میں حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکاح آپ سے کر دوں؟ انہوں نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، مجھے ان پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ غصہ آیا۔ چند دن بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ان کے نکاح کا پیغام بھیج دیا، میں نے (بصد خوشی و خوبی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکاح کر دیا۔ بعد میں مجھے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ملے اور کہنے لگے: شاید آپ اس وقت مجھ سے ناراض ہو گئے ہوں گے جب آپ نے مجھے حفصہ رضی اللہ عنہما کے نکاح کی پیش کش کی تھی اور میں نے آپ کو کوئی جواب نہیں دیا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ وہ کہنے لگے: جب آپ نے مجھے پیش کش کی تھی تو آپ کو جواب دینے سے مجھے کوئی چیز مانع نہیں تھی مگر یہ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان (حفصہ رضی اللہ عنہما) کا تذکرہ فرماتے سنا تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش نہیں کر سکتا تھا، ہاں، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں پیغام نہ بھیجتے تو میں ان سے نکاح کر لیتا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المغازي 12 (4005)، والنکاح 33 (5122)، 36 (5129) مختصرا، 46 (5145) مختصرا، مسند احمد (1/12و2/27) (تحفة الأشراف: 10523)، ویأتی عند المؤلف برقم3261 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں