سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ: إِنْكَاحِ الرَّجُلِ ابْنَتَهُ الصَّغِيرَةَ
باب: باپ اپنی چھوٹی بیٹی کا نکاح کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 3257
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَهَا، وَهِيَ بِنْتُ سِتٍّ، وَبَنَى بِهَا وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ چھ سال کی بچی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب نو برس کی ہوئیں تو آپ نے ان سے خلوت کی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3257]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح فرمایا تو وہ چھ سال کی تھیں اور انہیں اپنے گھر بسایا تو نو سال کی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 10 (1422)، (تحفة الأشراف: 17203) وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 38 (5133)، 39 (5134)، 59 (5158)، سنن ابی داود/النکاح 34 (2121)، سنن ابن ماجہ/النکاح 13 (1876)، مسند احمد (6/118، 280)، سنن الدارمی/النکاح 56 (2307) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3258
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ بْنِ مُسَاوِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبْعِ سِنِينَ، وَدَخَلَ عَلَيَّ لِتِسْعِ سِنِينَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں سات سال کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور جب میں نو برس کی ہوئی تو مجھ سے خلوت فرمائی ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3258]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ساتویں سال میں نکاح کیا اور میں نو سال کی ہوئی تو مجھے اپنے گھر بسایا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3258]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16781) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی شادی قبل بلوغت اور صحبت بعد بلوغت ہوئی۔ اس سے ثابت ہوا کہ باپ اپنی جھوٹی بچی کی شادی کر سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 3259
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتِسْعِ سِنِينَ، وَصَحِبْتُهُ تِسْعًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی، اور نو ہی برس میں آپ کی صحبت میں رہی (پھر آپ رحلت فرما گئے)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3259]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نو سال کی عمر میں اپنے گھر آباد فرمایا اور میں نو سال آپ کی مبارک صحبت میں رہی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3259]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 17796) (صحیح) (کثرت طرق کی وجہ سے یہ بھی صحیح ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 3260
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , وَأَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ،" تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ بِنْتُ تِسْعٍ، وَمَاتَ عَنْهَا وَهِيَ بِنْتُ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ جب میں نو برس کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی کی، اور جب آپ نے انہیں چھوڑ کر انتقال فرمایا تو اس وقت وہ اٹھارہ برس کی ہو چکی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3260]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے شادی فرمائی تو وہ نو سال کی تھیں اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو وہ اٹھارہ سال کی تھیں۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3260]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النکاح 10 (1422)، (تحفة الأشراف: 15956)، مسند احمد (6/42) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم