🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. بَابُ: التَّزْوِيجِ عَلَى سُوَرٍ مِنَ الْقُرْآنِ
باب: قرآن کی کچھ سورتیں سکھا دینے کے عوض شادی کر دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3341
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ لِأَهَبَ نَفْسِي لَكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَعَّدَ النَّظَرَ إِلَيْهَا وَصَوَّبَهُ، ثُمَّ طَأْطَأَ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَأَتِ الْمَرْأَةُ أَنَّهُ لَمْ يَقْضِ فِيهَا شَيْئًا، جَلَسَتْ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ فَزَوِّجْنِيهَا قَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ"؟ فَقَالَ: لَا، وَاللَّهِ مَا وَجَدْتُ شَيْئًا، فَقَالَ:" انْظُرْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ" فَذَهَبَ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ، وَلَكِنْ هَذَا إِزَارِي , قَالَ سَهْلٌ: مَا لَهُ رِدَاءٌ فَلَهَا نِصْفُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا تَصْنَعُ بِإِزَارِكَ إِنْ لَبِسْتَهُ؟ لَمْ يَكُنْ عَلَيْهَا مِنْهُ شَيْءٌ وَإِنْ لَبِسَتْهُ لَمْ يَكُنْ عَلَيْكَ مِنْهُ شَيْءٌ" فَجَلَسَ الرَّجُلُ حَتَّى طَالَ مَجْلِسُهُ، ثُمَّ قَامَ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مُوَلِّيًا، فَأَمَرَ بِهِ، فَدُعِيَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ:" مَاذَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ،" قَالَ: مَعِي سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا عَدَّدَهَا فَقَالَ:" هَلْ تَقْرَؤُهُنَّ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" مَلَّكْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ".
سہل بن سعد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں آئی ہوں کہ اپنے آپ کو آپ کے حوالے کر دوں، (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور نیچے سے اوپر تک دھیان سے دیکھا۔ پھر آپ نے اپنا سر جھکا لیا (غور فرمانے لگے کہ کیا کریں)، عورت نے جب دیکھا کہ آپ نے اس کے متعلق (بروقت) کچھ نہیں فیصلہ فرمایا تو وہ (انتظار میں) بیٹھ گئی، اتنے میں آپ کے ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول! اگر آپ اپنے لیے اس عورت کی ضرورت نہیں پاتے تو آپ اس عورت سے میری شادی کر دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس (بطور مہر دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا نہیں، قسم اللہ کی! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: دیکھو (تلاش کرو) لوہے کی انگوٹھی ۱؎ ہی مل جائے تو لے کر آؤ، تو وہ آدمی (تلاش میں) نکلا، پھر لوٹ کر آیا اور کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! کوئی چیز نہیں ملی حتیٰ کہ لوہے کہ انگوٹھی بھی نہیں ملی، میرے پاس بس میرا یہی تہبند ہے، میں آدھی تہبند اس کو دے سکتا ہوں، سہل (جو اس حدیث کے راوی ہیں) کہتے ہیں: اس کے پاس چادر نہیں تھی)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے تہبند سے کیا کر سکتے ہو؟ تم پہنو گے تو وہ نہیں پہن سکتی اور وہ پہنے گی تو تم نہیں پہن سکتے، وہ آدمی بیٹھ گیا اور دیر تک بیٹھا رہا، پھر (مایوس ہو کر) اٹھ کر چلا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پیٹھ پھیر کر جاتے ہوئے دیکھا تو اسے حکم دے کر بلا لیا، جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا: تمہیں قرآن کتنا یاد ہے؟ انہوں نے کہا: فلاں فلاں سورت، اس نے گن کر بتایا۔ آپ نے کہا: کیا تم اسے زبانی (روانی سے) پڑھ سکتے ہو، اس نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا: (جاؤ) جو تمہیں قرآن یاد ہے اسے یاد کرا دو اس کے عوض میں نے تمہیں اس کا مالک بنا دیا (یعنی میں نے اس سے تمہاری شادی کر دی)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3341]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے نکاح کی پیش کش لے کر آئی ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، نظر کو اونچا نیچا کیا اور پھر سر جھکا لیا۔ جب عورت نے دیکھا کہ آپ نے اس کی بابت کوئی فیصلہ نہیں سنایا تو وہ بیٹھ گئی۔ آپ کے صحابہ میں سے ایک آدمی اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو اس (خاتون) کی ضرورت نہیں تو اس کا نکاح مجھ سے فرما دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرے پاس (مہر دینے کے لیے) کوئی چیز ہے؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی چیز نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جا تلاش کر، اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ہو۔ وہ گیا، پھر واپس آیا اور کہنے لگا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول! لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے، البتہ میرے پاس یہ تہبند ہے، اس کا نصف اسے بطور مہر دیتا ہوں۔ حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے پاس اوپر والی چادر بھی نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عورت پر اس (تہبند) سے کچھ بھی نہ ہوگا اور اگر وہ پہنے گی تو تجھ پر کچھ نہ ہوگا۔ تب وہ آدمی بیٹھ گیا، حتیٰ کہ کافی دیر تک بیٹھا رہا، پھر وہ اٹھ کر چل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جاتا ہوا دیکھ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بابت حکم دیا اور اسے واپس بلایا گیا۔ جب وہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے قرآن یاد ہے؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے، اس نے کئی سورتیں شمار کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ان سورتوں کو زبانی (بغیر دیکھے) پڑھ سکتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے قرآن یاد ہے، میں نے اس کے عوض اس عورت کو تیرے قبضے میں (نکاح) میں دے دیا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3341]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل القرآن 22 (5030)، صحیح مسلم/النکاح 13 (1425)، (تحفة الأشراف: 4778) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مہر کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں