🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

84. بَابُ: الْهَدِيَّةِ لِمَنْ عَرَّسَ
باب: دولہا کو ہدیہ و تحفہ دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3389
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ وَهُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: وَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا، قَالَ: فَذَهَبَتْ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ لَكَ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ، قَالَ:" ضَعْهُ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ، فَادْعُ فُلَانًا وَفُلَانًا"، وَمَنْ لَقِيتَ، وَسَمَّى رِجَالًا، فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى، وَمَنْ لَقِيتُهُ، قُلْتُ لِأَنَسٍ: عِدَّةُ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: يَعْنِي زُهَاءَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، فَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ، وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ، قَالَ لِي: يَا أَنَسُ، ارْفَعْ، فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ رَفَعْتُ، كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ وَضَعْتُ".
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور اپنی بیوی کے پاس گئے اور میری ماں ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس بنایا، میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ سے عرض کیا: میری والدہ ماجدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑا سا تحفہ ہے، آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو اور جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ، آپ نے ان کے نام لیے اور (راستے میں) جو بھی ملے اسے بھی بلا لو۔ راوی جعد کہتے ہیں: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ لوگ کتنے رہے ہوں گے؟ کہا: تقریباً تین سو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کا حلقہ (دائرہ) بنا کر کھاؤ، اور ہر شخص اپنے قریب (یعنی سامنے) سے کھائے، تو ان لوگوں نے (ایسے ہی کر کے) کھایا اور سب آسودہ ہو گئے، (دس آدمیوں کی) ایک جماعت کھا کر نکلی تو (دس آدمیوں کی) دوسری جماعت آئی (اور اس نے کھایا اور وہ آسودہ ہوئی، اس طرح لوگ آتے گئے اور پیٹ بھر کر کھاتے اور نکلتے گئے، جب سب کھا چکے تو) مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اٹھا لو (وہ کھانا جو لائے تھے) تو میں نے اٹھا لیا۔ مگر میں کہہ نہیں سکتا کہ جب میں نے لا کر رکھا تھا تب زیادہ تھا یا جب اٹھایا تب (زیادہ تھا)۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3389]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی اور اپنی زوجہ محترمہ کو گھر لائے تو میری والدہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ملیدہ بنایا۔ میں وہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: میری والدہ آپ کو سلام کہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے معمولی سا تحفہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رکھ دو۔ پھر فرمایا: جاؤ فلاں فلاں کو بلا لاؤ بلکہ جسے بھی ملو (اسے بلا لاؤ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے نام لیے۔ جن کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام لیے تھے، میں ان سب کو بلا لایا اور جسے بھی ملا، اسے بھی بلا لیا۔ (حضرت انس کے شاگرد نے کہا:) میں نے حضرت انس سے پوچھا: وہ کتنے تھے؟ انہوں نے کہا: تقریباً تین سو افراد تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دس دس آدمی حلقہ بنا لیں اور ہر شخص اپنے قریب اور سامنے سے کھائے۔ سب لوگوں نے کھانا کھایا حتیٰ کہ وہ سیر ہو گئے۔ ایک گروہ جاتا رہا، دوسرا آتا رہا۔ (جب سب فارغ ہو گئے تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انس! اٹھاؤ۔ میں نے برتن اٹھایا۔ میں نہیں جانتا کہ جب میں نے رکھا تھا تو اس وقت زیادہ تھا یا جب اٹھایا، اس وقت زیادہ تھا۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3389]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/النکاح 64 (5163) تعلیقًامطولا، صحیح مسلم/النکاح 15 (1428)، سنن الترمذی/تفسیرسورة الأحزاب 34 (3218)، (تحفة الأشراف: 513)، مسند احمد (3/163) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: حیس یعنی مالیدہ، حیس گھی، پنیر اور کھجور سے بنایا جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3390
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ:" آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ، فَآخَى بَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ , وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: إِنَّ لِي مَالًا، فَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ شَطْرَانِ، وَلِي امْرَأَتَانِ، فَانْظُرْ أَيُّهُمَا أَحَبُّ إِلَيْكَ فَأَنَا أُطَلِّقُهَا، فَإِذَا حَلَّتْ فَتَزَوَّجْهَا، قَالَ: بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي أَيْ عَلَى السُّوقِ، فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى رَجَعَ بِسَمْنٍ، وَأَقِطٍ قَدْ أَفْضَلَهُ، قَالَ: وَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ أَثَرَ صُفْرَةٍ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ؟" فَقُلْتُ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ:" أَوْلِمْ، وَلَوْ بِشَاةٍ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور انصار کے درمیان مواخات یعنی بھائی چارہ قائم کر دیا، تو سعد بن ربیع اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا۔ سعد (انصاری) رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس مال ہے اس کا آدھا تمہارا ہے اور آدھا میرا اور میری دو بیویاں ہیں تو دیکھو ان میں سے جو تمہیں زیادہ اچھی لگے اسے میں طلاق دے دیتا ہوں، جب وہ عدت گزار کر پاک و صاف ہو جائے تو تم اس سے شادی کر لو۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ تمہاری بیویوں اور تمہارے مال میں تمہیں برکت عطا کرے۔ مجھے تو تم بازار کی راہ دکھا دو، (پھر وہ بازار گئے) اور گھی اور پنیر نفع میں کما کر لائے بغیر نہ لوٹے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر زردی کا نشان دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں نے ایک انصاری لڑکی سے شادی کی ہے تو آپ نے فرمایا: ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری ہی کا سہی۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3390]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہجرت کے موقع پر) قریش (مہاجرین) اور انصار کے درمیان بھائی چارہ فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن ربیع (انصاری) اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (مہاجر) رضی اللہ عنہما کو آپس میں بھائی بھائی بنایا، چنانچہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میرے پاس جو بھی مال ہے وہ میرے اور تیرے درمیان مشترک ہے، میری دو بیویاں ہیں، دیکھ جو تجھے اچھی لگے، میں اسے طلاق دے دیتا ہوں، جب عدت ختم ہو تو اس سے نکاح کر لینا، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ تیرے گھر بار میں برکت فرمائے (میں کچھ نہیں لوں گا)، مجھے بتاؤ تجارتی بازار کدھر ہے؟ جب واپس آئے تو (کاروبار کے ذریعے سے) کچھ گھی اور پنیر بچا لائے تھے، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (چند دن بعد) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر صفرہ خوشبو کے نشان دیکھے تو فرمایا: یہ کیسے؟ میں نے عرض کیا: میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولیمہ کرنا، چاہے ایک بکری ہی کا ہو۔ [سنن نسائي/كتاب النكاح/حدیث: 3390]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 3376 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں